متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اپوزیشن اتحاد کا آئین کی بحالی کے لیے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ

اسلام آباد(پی پی آئی) اپوزیشن اتحاد نے آئین کی بحالی کے لیے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کرلیا۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کا محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں حکومت مخالف جماعتوں کی جانب سے ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی،پی پی آئی کے مطابق  اجلاس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسد قیصر، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا شریک ہوئے۔اجلاس میں بی این پی مینگل کے رہنما ساجد ترین، ثنا اللہ بلوچ،ایم ڈبلیو ایم کے اسد شیرازی،ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی بھی موجود تھے۔شرکا کی جانب سے اجلاس میں اپوزیشن اتحاد کا آئین کی بحالی کے لیے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کرلیا گیا اور تحریک کو آگے بڑھانے، حقیقی آزادی کے حصول کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غورکیا گیا جبکہ فیصل آباد اور کراچی کے جلسوں کے لیے انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ ہوا۔حکومت مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات کرنا ہمارا آئینی قانونی اور جمہوری حق ہے، جلسے ہر صورت کیے جائیں گے، اس وقت ملک میں جمہوریت ختم ہو چکی اور آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، ہماری تحریک آئین کی بحالی تک جاری رہے گی۔تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے 7 مئی کی پریس کانفرنس غیر آئینی، غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی اور مطالبہ کیا کہ ملک میں آئین توڑنے والوں کو قوم سے معافی مانگنا ہوگی۔رہنماؤں نے گوادر میں پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعہ میں 7 بے گناہ اور نہتے افراد کے قتل کی مذمت اور ان کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہارکیا، دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ بار کے وکلا پر بیہمانہ تشدد، گرفتاریوں اور پنجاب میں کسانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی بھی شدید مذمت کی گئی۔اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ کسانوں کے مطالبات کے حق میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔