شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

زیورات کے برآمد کنندگان بھی حالیہ بجٹ پر ناراض

اسلام آباد (پی پی آئی) بجٹ میں حکومت کی جانب سے مطالبات کی عدم منظوری پر جیولری ایکسپورٹرز نے کارخانے بیرون ملک منتقل کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سونے کے زیورات کے ایکسپورٹرز نے بھی وفاقی بجٹ کو برآمدات کش قرار دے دیا ہے۔ چیئرمین پاکستان جم اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق وفاقی بجٹ میں ایکسپورٹ کے لیے ایڈوانس گولڈ کی درآمد پر 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 2 فیصد انکم ٹیکس کی چھوٹ بحال نہیں کی گئی۔جیولرز ایکسپورٹرز کے رہنما نے کہا کہ ایکسپورٹ کو آسان بنانے کے لیے ایس آر او 760 میں تسلیم شدہ ترامیم بھی نہیں کی گئیں جب کہ وفاقی وزارت خزانہ اور وزارت تجارت نے بجٹ میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس چھوٹ بحال کرنے ایس آر او 760 میں ترمیم کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ایس آر او 760 کی مشکلات کی وجہ سے سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ 95 فیصد تک کم ہوچکی ہیں اور ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی برآمدات 5 کروڑ ڈالر رہ گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس سیلز ٹیکس کی چھوٹ بحال نہ کی گئی اور ایس آر او 760 میں ترمیم نہ ہوئی تو ایکسپورٹ مکمل طور بند ہو جائے گی۔ فکسڈ ٹیکس ریجیم سے ایکسپورٹ پر 29 فیصد ٹیکس کی تجویز سے ایکسپورٹ جاری رکھنا دشوار تر ہوگا۔ یہی وجوہات ہیں کہ زیورات ایکسپورٹ کرنے والوں نے کارخانے بیرون ملک منتقل کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔