شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پوری دنیا میں وقتا فوقتا ایکس کو پابندیوں اور بندش کا سامنا

کراچی(پی پی آئی)پاکستان میں الیکشن فروری 2024  کے ایک ہفتے بعد سے ایکس بند ہے اور گزشتہ 6 ماہ کے دوران متعدد بار جزوی طور پر اسے بحال کیا جا چکا ہے لیکن مکمل طور پر اس کی سروس بحال نہیں کی گئی۔ملک بھر میں صحافتی، کاروباری اور دیگر ادارے اور افراد ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے ذریعے ایکس چلانے پر مجبور ہیں۔لیکن پاکستان وہ واحد ملک نہیں، جہاں ایکس پر پابندی عائد ہے دنیا کے جن ممالک میں ایکس کی سروس معطل، بند یا جزوی طور پر معطل ہے، ان میں چین، روس، ترکمانستان، ایران، میانمار، ازبکستان اور شمالی کوریا سمیت دیگر چھوٹی ریاستیں اور جزائر پر مشتمل ممالک بھی شامل ہیں۔پی پی آئی کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں وقتا فوقتا ایکس کو پابندیوں اور بندش کا سامنا رہا ہے جب کہ اس وقت بھیہتا ہے یا پلیٹ فارم سے حکومت اور ریاست مخالف ٹوئٹس یا مواد ڈیلیٹ کروا دیا جاتا ہے۔اسرائیل، امریکا، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں آج بھی یہودیوں کے خلاف مواد یا ٹوئٹ کرنے پر ایکس مذکورہ اکاونٹ کو معطل یا مکمل طور پر بند کردیتا ہے جب کہ دیگر ممالک میں بھی حکومتوں اور ریاستوں کی درخواست پر ایکس مواد اور ٹوئٹس کو ڈیلیٹ کرتا ہے۔