روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف مخصوص نشستوں کیلیے اہل قرار،الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم

|اسلام آباد(پی پی آئی)سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کیلیے اہل قرار دے کر پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔ 11 ججوں نے تحریک انصاف کو پارلیمانی جماعت تسلیم کر لیا۔سپریم کورٹ نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کیلئے تحریک انصاف کا حق تسلیم کر لیا۔ عدالت نے آٹھ پانچ کے تناسب سے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ اور الیکشن کمیشن کا آرڈر کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے 39 ارکان کو پی ٹی آئی کا منتخب رکن قومی اسمبلی قرار دے دیا۔ باقی 41 ارکان 15 دن میں بیان حلفی جمع کرا کے پی ٹی آئی کا حصہ بن سکتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ انتخابی نشان سے محرومی کسی جماعت کا الیکشن میں حصہ لینے کا حق ختم نہیں کرتی۔ پی ٹی آئی سیاسی جماعت تھی اور ہے۔ عدالت  نے اضافی مخصوص نشستوں پر انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کی لسٹ کے مطابق مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔  قرار دیا کہ الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کو وضاحت چاہیئے تو عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔اکثریتی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے پڑھ کر سنایا۔ جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس شاہد وحید، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت کی تائید شامل تھی۔جسٹس امین الدین اور جسٹس نعیم افغان نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا مکمل فیصلہ بحال رکھا اور سنی اتحاد کونسل کی درخواستیں خارج کردیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے الگ نوٹ میں آزاد امیدواروں کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا معاملہ الیکشن کمیشن کو ریفر کیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  اور جسٹس جمال مندوخیل نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کیلئے پارلیمانی پارٹی نہ ماننے کی حد تک فیصلہ کالعدم کیا۔