آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جولائی میں دہشتگردی میں اضافہ، 108 افراد جاں بحق، 71  زخمی

اسلام آباد(پی پی آئی)اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ جون میں معمولی کمی کے بعد جولائی کے دوران ملک بھر میں دہشت گردوں کے تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایک میڈیارپورٹ میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جولائی میں 79 حملے ہوئے، جس کے نتیجے میں 108 افراد کی موت واقع ہوئی جبکہ 71  زخمی ہوئے۔بڑھتے ہوئے پُرتشدد واقعات کے ردعمل میں سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیاں تیز کر دیں اور جولائی میں کم از کم 50 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، دہشت گردی کے زیادہ تر حملے خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں ہوئے،۔بلوچستان میں 12 دہشت گردی کے حملوں میں 12 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوئے، سندھ کو 5 حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوئے، جولائی میں سب سے اہم پیش رفت 18 جولائی کو پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ہاتھوں القاعدہ کے رہنما امین الحق کی گرفتاری تھی۔سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر مختلف کارروائیوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے 6 اہم کمانڈروں کو ہلاک کیا، ان میں قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں نجیب عرف عبدالرحمن اور اشفاق عرف معاویہ، باجوڑ میں عرفان اللہ عرف عدنان، گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں شاہ فیصل، شمالی وزیرستان میں نور رحمٰنشامل تھے۔