ملک کے بیشتر علاقوں میں عمومی طور پر گرم اور خشک موسم متوقع

سکرنڈ میں شہید بینظیر بھٹو فیملی فیسٹیول اور مینا بازار کا افتتاح

ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان کسٹمز کے گودام میں آگ بھڑک اٹھی، زائد المیعاد سگریٹ اور متفرق ضبط شدہ سامان جل گیا

افغانستان سے درآمد شدہ نیم تیار قالینوں پر اضافی سیلز ٹیکس ختم ہونا چاہئیے :پی سی ایم ای اے

پاک-ترک وزرائے خارجہ کا علاقائی امن کی پیش رفت پر تبادلہ خیال

سوسائٹی فار پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریری کے زیر اہتمام سیمینار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جموں میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ملازمین، ڈیلی ویجرز کااحتجاجی دھرنا جاری

جموں (پی پی آئی)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ملازمین اورڈیلی ویجرزکا احتجاجی دھرنا آج 780ویں دن میں داخل ہوگیا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جموں میں چیف انجینئر کے دفتر کے سامنے دھرنے کے شرکارء اپنی ریگولرائزیشن اور طویل عرصے سے زیر التواء تنخواہوں کے اجرا ء کا مطالبہ کررہے ہیں۔پی ایچ ای حکام تقریبا 80ماہ کی ان کی زیر التوا ء تنخواہیں جاری کرنے میں ناکام رہے۔ حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود وہ اپنی مستقلی کے منتظر ہیں۔ یونین کے رہنما روی ہنس نے جموں میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بے سہارا مزدور 22جون 2022سے ہڑتال پر ہیں جو زیر التوا تنخواہیں جاری کرنے اور اپنی نوکری مستقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کے اعلی حکام سے کئی بار بات چیت کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کی یقین دہانی کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔راجندر سنگھ تاج اور ہوشیار سنگھ سمیت ملازمین کے نمائندوں نے کہا کہ جب تک انہیں انصاف نہیں مل جاتا وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ریگولرائزیشن، کم از کم اجرت میں اضافہ اور 80ماہ سے زیادہ کی اجرت جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اجرت کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ان کے خاندان فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی اسکول فیس ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔