شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بیرون ممالک  مقید پاکستانیوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ

کراچی(پی پی آئی)قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بیرونِ ملک پاکستانی قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب  وزارتِ خارجہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اس وقت 20 ہزار پاکستانی دیگر ممالک میں قید ہیں جن میں سے نصف تعداد یعنی 10 ہزار سعودی عرب کی جیلوں میں ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارت خانوں کی استعداد کی کمی اور وزارتوں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب بیرون ممالک پاکستانی قیدیوں کی تعداد بڑھی ہے۔بیرون ممالک قید پاکستانیوں کی یہ تعداد 2022 کے اعداد و شمار کے مقابلے میں دگنی ہے جو کہ 11 ہزار کے قریب تھی مزید یہ بھی کہ بیرون ممالک قید پاکستانیوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد غیر قانونی طور پر بیرون ممالک جاتی ہے جسے زیادہ تر شمار نہیں کیا جاتا ہے۔