متعدد ہلاکتوں کے بعد دریائے حب میں سرگرمیوں پر پابندی

سندھ کے گورنر کا اقتصادی فروغ اور قومی ترقی کے لیے تارکین وطن سے رابطہ

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان-قازقستان اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے پر زور دیا

بڑے پیمانے پر فضلے کی برآمدگی صاف بندرگاہوں اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے

امریکہ، ایران بحران میں پاکستان کی سفارتی اہمیت برقرار ہے: سردار مسعود خان

پاکستان نے تاریخی تعلیمی اصلاحات میں جذباتی ذہانت کو ترجیح دی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے 21روزہ ”عوامی تھیٹر فیسٹیول“ میں عوام کا بے پناہ رش

کراچی(پی پی آئی)  آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 21روزہ ”عوامی تھیٹر فیسٹیول“ میں عوام کا بے پناہ رش۔ فیسٹیول کے دسویں روز تھیٹر ”منزل ہے آسماں“ اور تھیٹریکل میوزیکل پروگرام ”شردھانجلی“ پیش کیا گیا جس میں شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی، ’آرٹس کونسل  کے اعلامیہ کے مطابق  ’منزل ہے آسماں“ کے رائٹر شوکت علی مظفر جبکہ ڈائریکٹر الیاس ندیم تھے، کاسٹ میں زاہد خان، شہنیلا قریشی، عبداللہ لالہ، زینب کاظمی، یوسف خان، سحر غزل، آصف علی، ارما احمد، ہمایوں پردار اور کمال ادریس شامل تھے، ”منزل ہے آسماں“ سکھر میں رہنے والے ذوالفقار چاچڑ کی سچی کہانی تھی،ذوالفقار نے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈگری حاصل کی، جب یہ تعلیم حاصل کررہا تھا تو اس کے والد اور ذوالفقار خود کسی پرانے بازار میں قلفی بیچا کرتے تھے، ذوالفقار کا غریب گھرانے سے تعلق ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، بازار میں جہاں اس لڑکے کا باپ قلفی کی ریڑھی لگاتا ہے وہاں حجام کی دکان والا، ہوٹل والا یہاں تک وکیل بھی ذوالفقار کو سپورٹ کرتے ہیں تاکہ اچھا شہری بن سکے، ڈرامے میں  وڈیرے کے بیٹے سجاول کو دکھایاگیا ہے جو تعلیم کے خلاف ہوتا ہے، یہ ڈراتا دھمکاتا ہے کہ تم پڑھنے لکھنے سے باز آجاو، مگر ذوالفقار اپنی پڑھائی جاری رکھتا ہے اور ایک دن ٹاپ کرلیتا ہے، ڈرامہ میں دکھایا گیا ہے کہ آج کے دور میں تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے، کس طرح وڈیرے کا بیٹا سجاول ایک غریب لڑکے ذوالفقار کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتا ہے مگر ذوالفقار اس کی دھمکیوں میں نہیں آتا اور اپنی تعلیم جاری رکھتا ہے، تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے ایک اچھی نوکری مل جاتی ہے اور وہ اچھی زندگی گزارتا ہے۔ دوسرے شو میں میوزیکل پرفارمنس ”شردھانجلی“  میں برصغیر پاک و ہند کے لیجنڈ موسیقاروں اور اداکاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تھیٹریکل میوزیکل پروگرام پیش کیاگیا، فنکاروں  نے نورجہاں، لتا منگیشکر، راج کپور، احمد رشدی، وحید مراد، شمشاد بیگم، نثار بزمی خواجہ خورشید انور، رنگیلا، منورظریف ودیگر کو ٹریبیوٹ پیش کیا۔