شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان ٹیکسٹائل گارمنٹس ٹریڈ یونین کوآرڈنیشن کونسل قائم

کراچی25جنوری (پی پی آئی)نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان (این ٹی یو ایف) نے کراچی میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس ورکرز کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے ورکرز اور ان کے یونین کے نمائندوں، اور ملک بھر سے بڑے بین الاقوامی فیشن برانڈز کے لیے مصنوعات تیار کرنے والی برآمدی فیکٹریوں کے ورکرز نے شرکت کی۔کانفرنس میں پاکستان اکارڈ (پی اے)، انٹرنیشنل گلوبل یونین اور ملبوسات کے برانڈز کے درمیان گلوبل فریم ورک ایگریمنٹس (جی ایف ایز)، جرمن سپلائی چین ڈیو ڈیلیجنس لیجسلیشن (ایس سی ڈی ڈی ایل) اور یورپی یونین کی کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی ڈیو ڈیلیجنس ڈائریکٹیو (سی ایس ڈی ڈی ڈی) جیسے فریم ورک، ان کے نفاذ کے طریقہ کار، ان کے مسائل، اور ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں لاکھوں ورکرز پر ان کا اثر  پر بات چیت کی گئی۔کانفرنس کی صدارت پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری سید سجاد حسین گردیزی نے کی۔انڈسٹری آل گلوبل یونین کے ٹیکسٹائل، گارمنٹس، جوتے اور چمڑے (ایل جی ایس ایل) کے شعبے کے کو چیئر وکٹر گریڈو سوٹومایور نے شرکا  سے  آن لائن خطاب کرتے ہوئے اجتماع کی آزادی، اجتماعی سودے بازی کے حقوق، کام کی جگہ کی حفاظت، امتیازی سلوک کے خلاف تدابیر،  بہتر اجرت، کام کے اوقات اور ماحولیاتی تحفظ کی تدابیر پرگفتگو کی۔۔این ٹی یو ایف کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور نے کہا کہ پاکستان اکارڈ، جو 2023 میں پاکستان میں قائم کیا گیا، بنگلہ دیش اکارڈ پر مبنی ہے، جو 2013 میں رانا پلازہ فیکٹری کے انہدام کے بعد بنایا گیا تھا جس میں 1,100 سے زائد ورکرز جان کی بازی ہار گئے تھے۔ پی اے ایک قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے جو عالمی برانڈز اور ٹریڈ یونینز کے درمیان ہے اور پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت میں کام کی جگہ کی حفاظت کے معائنے، ورکرز کی حفاظت کی تربیت، اور ایک شفاف شکایت میکانزم کو لازمی بناتا ہے۔کمیٹی کی جنرل سیکریٹری، ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کو چیئر، کمیٹی زہرا خان نے سپلائی چینز کو منظم کرنے والے اہم ریگولیٹری فریم ورک پر روشنی ڈالی۔ ایک ویڈیو پیغام میں انڈسٹری آل گلوبل یونین کے جنوبی ایشیا کے علاقائی سیکریٹری آشوتوش بھٹاپاٹھیہ نے پی اے اور ایکٹ مہم کو ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے صنعتی سطح پر اجتماعی سودے بازی کو معمول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ بہتر کام کے حالات، کارپوریٹ احتساب، اور پائیدار مستقبل حاصل کیا جا سکے۔ذلفقار شاہ، پاکستان اکارڈ کے ملک کے منیجر نے کہا کہ اکارڈ پاکستان میں 500 فیکٹریوں کو شامل کرتا ہے، اور اب تک ان میں سے 170 کا معائنہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکارڈ صرف معائنے نہیں کرتا بلکہ یہ یقینی بناتا ہے کہ اقدامات بھی کیے جائیں۔۔کانفرنس میں جو دیگر شخصیات شامل تھیں ان میں نیاز خان، سمیعہ عرفان، سجاد گڑیزوی، سلطان محمد، رفیق بلوچ، سرزمین افغانی، سید اعجاز حسین شاہ بخاری اور نوشیر خان شامل تھے۔کانفرنس میں پاکستان کے پانچ بڑے ٹریڈ یونینز اور فیڈریشنز، بشمول پاکستان یونائیٹڈ فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز، اتحاد لیبر کارپٹ یونین پاکستان، پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن، ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن، اور این ٹی یو ایف نے پاکستان ٹیکسٹائل گارمنٹس ٹریڈ یونین کوآرڈنیشن کونسل کے قیام کا اعلان کیا۔ اشرکانے سندھ لیبر کوڈ کو مسترد کیا اور اسے ورکرز کے حقوق کو کمزور کرنے کے ایجنڈے کے طور پر قرار دیا، جو سالوں کی جدوجہد سے حاصل کیے گئے تھے۔