اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو100بی پی ایس کم کرکے 12فیصد کرنے کا فیصلہ کیا

اسلام آباد(پی پی آئی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی  زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنے آج کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو28جنوری 2025ء  سے100بی پی ایس کم کرکے 12فیصد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے ایک بیان کے مطابق کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مہنگائی کا رجحان توقعات کے مطابق مسلسل نیچے کی جانب ہے اور وہ دسمبر میں 4.1 فیصد سال بسال تک پہنچ گئی۔ اس رجحان کا سبب ملکی طلب کے معتدل حالات اور  سازگار اساسی اثر کے ہمراہ مثبت رسدی حرکیات ہیں۔ جنوری میں توقع ہے کہ مہنگائی مزید کم ہوگی اور اس کے بعد ا?نے والے مہینوں میں تھوڑی بڑھے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ قوزی مہنگائی (core inflation)اگرچہ مسلسل کم ہورہی ہے تاہم ابھی تک بلند سطح پر ہے۔ ساتھ ہی بلند تعدّد کے اظہاریے بدستور معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری دکھا رہے ہیں۔ ایم پی سی کا تخمینہ یہ تھا کہ جون 2024ء  سے اب تک پالیسی ریٹ میں 1000 بی پی ایس کی نمایاں کمی کا اثر سامنے ا?تا رہے گا اور اس سے معاشی سرگرمی کو مزید تقویت ملے گی۔کمیٹی نے گذشتہ اجلاس سے اب تک ہونے والی اہم پیش رفتوں کا ذکر کیا۔اوّل،  مالی سال 25ء   کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی نمو ایم پی سی  کی پہلے کی توقعات سے کسی قدر کم رہی۔ دوم، دسمبر 2024ء   میں جاری کھاتہ فاضل رہا، گو کہ رقوم کی کم ا?مد اور قرضوں کی بلند ادائیگی کی بنا پر  اسٹیٹ بینک کے زر ِمبادلہ کے ذخائر گھٹ گئے۔ سوم، ٹیکس محاصل دسمبر میں نمایاں اضافے کے باوجود مالی سال 25ئکی پہلی ششماہی کے ہدف سے نیچے رہے۔کارکنوں کی ترسیلات زر اور برآمدی آمدنی کی مضبوطی کی بدولت دسمبر کے دوران جاری کھاتے میں 0.6 ارب ڈالر فاضل رہا، جس سے مالی سال 25ء   کی پہلی ششماہی میں مجموعی فاضل بڑھ کر 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ بلند قدر اضافی کی حامل ٹیکسٹائل  کی بدولت  برآمدات نے اپنی مضبوط رفتار کو برقرار رکھا۔ اس کے ساتھ  بلند حجم کے بل بوتے پر درآمدات  کی نمو میں بھی وسیع البنیاد اضافہ دیکھا گیا، جو معاشی سرگرمی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ درآمدی  اخراجات کی رفتار برآمدی آمدنی سے زیادہ رہی، تاہم ترسیلات زر کی آمد نے  بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا اثر مکمل طور پر زائل کر دیا۔ ان رجحانات ، خصوصاً   کارکنوں کی مضبوط  ترسیلات زر، کی بنیاد پر  جاری کھاتے کے توازن کے منظرنامے میں  خاصی بہتری آئی ہے، اور اب توقع ہے کہ  یہ  مالی سال 25ء   کے دوران  فاضل اور جی ڈی پی کے 0.5 فیصد خسارے تک رہے گا۔  مالی سال 25ء   کی پہلی ششماہی کے دوران  خالص مالی رقوم کی آمد کمزور رہی، تاہم آگے چل کر ان میں بہتری  متوقع ہے کیونکہ  سرکاری قرضوں کی واپسی کے ضمن میں  ایک بڑے حصے کی پہلے ہی ادائیگی ہو چکی ہے۔ نتیجتاً،  جاری کھاتے کے منظرنامے میں بہتری کے ساتھ  منصوبہ بندی کے مطابق متوقع مالی رقوم کے موصول ہونے  سے امکان ہے کہ  جون 2025ء   تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔مالی سال 25ء   کی پہلی ششماہی کے دوران ایف بی آر کے محاصل میں  تقریباً 26 فیصد کا قابل ذکر اضافہ ہوا۔ تاہم، ہدف کے مقابلے میں ٹیکس وصولی میں کمی کی شرح بڑھی ہے۔لہٰذا،  سالانہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ٹیکس محاصل کی نمو میں تیزی سے  اضافے  کی ضرورت ہو گی۔ مالی سال 25ء   کی پہلی ششماہیکے دوران  مالی تخمینوں سے  مالیاتی توازن  میں بہتری کا پتہ چلتا ہے، جس سے  قدرے محدود اخراجات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ کمیٹی کی رائے میں  توقع کے مطابق بجٹ میں مختص رقوم کے مقابلے میں  انٹرسٹ کی کم  ادائیگیوں  سے امکان ہے کہ  مجموعی مالیاتی خسارہ ہدف تک محدود رہے گا۔ تاہم بنیادی توازن کے ہدف کو حاصل کرنا دشوار ہو گا۔زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے موقع پر زرِ وسیع  (M2) کی نمو 13.3 فیصد تھی جو  17 جنوری کو مزید کم ہو کر 11.3 فیصد سال بسال رہ گئی۔ زرِ وسیع  (M2) کی نمو میں کمی کی بنیادی وجہ این ڈی اے کی نمو میں نمایاں سست روی تھی۔ اگرچہ حکومت نے بینکاری نظام سے نسبتاً کم قرض لیا اور غیر بینکاری ذرائع کی طرف منتقل ہوگئی، تاہم نجی شعبے کو بینکوں کے قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ جاری معاشی بحالی، مالی حالات میں بہتری اور بینکوں کی جانب سے قرض تا  ڈپازٹ تناسب (اے ڈی آر) کی حدوں  کی تعمیل  کی پْرزور کوششیں تھیں۔ ان عوامل کا اثر بینک ڈپازٹس پر بھی پڑا، جو زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے نمایاں طور پر کم ہوگئے ہیں؛ جبکہ اس مدت کے دوران  زیرِ گردش کرنسی میں کچھ اضافہ بھی دیکھا گیا۔عمومی مہنگائی میں کمی کا تسلسل برقرار رہا، جو نومبر میں 4.9 فیصد سے گھٹ کر دسمبر میں 4.1 فیصد سال بسال رہ گئی۔ مہنگائی میں کمی کا رجحان بنیادی طور پر بجلی کے نرخوں میں کمی؛ اہم غذائی اشیا کی مناسب رسد جس کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی مہنگائی میں کمیآنا؛ شرح مبادلہ میں استحکام؛ اور موافق اساسی اثر کے باعث نمودار ہوا۔ ملکی طلب قابو میں رہنے کے باعث مہنگائی کا بنیادی دباوٗ – جو قوزی مہنگائی سے عیاں ہے- معتدل ہوگیا، گوکہ اس کی سطح بلند رہی۔ مزید براں، مہنگائی کی توقعات بھی غیرمستحکم رہیں۔ ان رجحانات کی بنیاد پر، زری پالیسی کمیٹی نے اپنے گذشتہ جائزے کا اعادہ کیا کہ نزدیکی  مدت کی مہنگائی غیر مستحکم رہے گی اور توقع ہے کہ ا?خر مالی سال 25ء   تک یہ بڑھ کر مقررہ ہدف کی بالائی سطح کے قریب  پہنچ جائے گی۔ اس کی نسبت زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ عمومی مہنگائی برائے مالی سال 25ء  اوسطاً 5.5 تا 7.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔آگے چل کر، مہنگائی کا منظرنامہ اجناس کی غیر مستحکم عالمی قیمتوں، بڑی معیشتوں میں تحفظ پسندانہ ریاستی پالیسیوں، توانائی کے زیرِ انتظام نرخوں میں ردّوبدل کے پیمانے اور وقت، تلف پذیر غذائی اشیا کی غیر مستحکم قیمتوں اور اس کے ساتھ ساتھ محاصل کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی اضافی اقدام سے پیدا ہونے والے خطرات سے مشروط ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

حکومت نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شراکت دار بنانے کیلئے پْرعزم ہے،مشہود خان

Mon Jan 27 , 2025
ٓاسلام آباد(پی پی آئی) وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود خان نے کہا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شراکت دار بنانے کیلئے پْرعزم ہے۔انہوں نے آج (پیر) اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ایڈوائزری یوتھ کونسل کے ارکان کا انتخاب خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا […]