سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سعودیہ میں تجارتی لحاظ سے پاکستان کیلئے اگلے دو سال اہم ہوں گے، سفیر احمد فاروق

کراچی29جنوری (پی پی آئی)سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے کہا کہ ویژن 2030 کے تحت سعودی عرب میں ہونے والی بڑی تبدیلی جس میں تیل سے ہٹ کر معیشت کو متنوع بنانے پر توجہ دی جارہی ہے جس کے باعث پاکستان کے لیے اگلے ایک سے دو سال سعودی عرب میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے اہم ہوں گے جہاں تعمیرات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر اور ہوٹلز و میزبانی کے شعبوں میں بے پناہ مواقع پیدا ہورہے ہیں۔اگر ہم فوری طور پر اپنا حصہ حاصل نہیں کرتے تو یہ مواقع ہمارے حریفوں کے ہاتھ لگ جائیں گے لیکن اس کے حصول کے لیے پاکستان کو سعودی عرب کی ضروریات کے مطابق تربیت دے کر اپنی افرادی قوت کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔کے سی سی آئی کے صدر محمد جاوید بلوانی، سینئر نائب صدر ضیاء العارفین، نائب صدر فیصل خلیل احمد، ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز  لائژن سب کمیٹی کے چیئرمین احسن ارشد شیخ اور کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔پاکستانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب ایک علاقائی آئی ٹی مرکز بننا چاہتا ہے جس سے انسانی وسائل اور مہارت کی بڑی مانگ پیدا ہو گی۔یہ پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا موقع ہے کہ وہ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے کو خدمات اور مصنوعات فراہم کریں جس میں اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔اگلے دہائی میں سعودی عرب چار بڑے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کرے گا جن میں ایشین فٹ بال کپ (2027)، ایشین ونٹر گیمز (2029)، ریاض میں ورلڈ ایکسپو (2030) اور فیفا ورلڈ کپ (2034) شامل ہیں۔ ان ایونٹس کی تیاری کے لیے سعودی عرب انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے جس میں 250 نئے ہوٹلز کی تعمیر بھی شامل ہے۔ اس توسیع سے پاکستان کے ہوم ٹیکسٹائل انڈسٹری، فوڈ ایکسپورٹ، میزبانی اور ہاؤس کیپنگ میں تربیت یافتہ لیبر فورس کے لیے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے سعودی عرب میں تعمیراتی شعبے میں ہونے والی ترقی پر بھی روشنی ڈالی جن میں نیوم سٹی جیسا میگا پراجیکٹ اور وسیع انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی کنٹریکٹرز کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ اس میں حصہ لیں کیونکہ سعودی عرب میں معروف کنٹریکٹرز کی کمی ہے۔ دنیا بھرکی کمپنیاں منافع بخش معاہدے کر رہی ہیں اور پاکستان کو بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔سعودی عرب میں تعمیراتی سامان بشمول فرنیچر، سنگ مرمر، الیکٹریکل کیبلز، ایل ای ڈی لائٹس، اور فائبر آپٹک کیبلز کی مانگ میں اضافہ ہو رہااس موقع پر سفیر نے2023-24کے دوران سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات میں 40 فیصد اضافے پر بھی روشنی ڈالی جبکہ آئی ٹی سیکٹر میں 50 فیصد نمایاں ترقی دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سفارت خانے کا بنیادی مقصد تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ گزشتہ سال سعودی عرب کے دو بڑے تجارتی وفود نے پاکستان کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں  3 ارب ڈالر مالیت کی 34 مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوئے۔ان میں سے 700 ملین ڈالر مالیت کے ایم او یوز پہلے ہی عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جو کہ ایک امید افزا اقتصادی تعاون کا آغاز ہے۔احمد فاروق نے ٹیکسٹائل، زراعت، چاول، اور ریڈ میٹ (بیف اور مٹن) کو پاکستانی برآمدات کے لیے ترجیحی شعبوں کے طور پر شناخت کیا جن میں سعودی عرب میں غیر معمولی نمو دیکھنے میں آئی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ بڑے کاروباری ادارے سعودی عرب میں مقامی ڈسٹری بیوٹرز سے رابطہ کریں تاکہ برآمدات میں آسانی ہو۔ان شعبوں میں اہم برآمد کنندگان کی فہرست سفارت خانے کے ساتھ شیئر کی جانی چاہیے تاکہ ہم تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کر سکیں۔انہوں نے بطور سفیر حاصل ہونے والے تجربات کو شیئر کیا اور سعودی عرب میں موجود وسیع مواقعوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے دورے کا مقصد کراچی کی تاجر برادری کے ساتھ کاروباری مواقعوں پر تبادلہ خیال کرنا اور انہیں یہ بتانا ہے کہ پاکستان کا سفارتخانہ سعودی مارکیٹ تک رسائی میں ان کی کیسے مدد کرسکتا ہے۔انہوں نے سعودی عرب میں ہنر مند افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی طلب پر بھی زور دیا جہاں اس وقت 30 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ تاہم ان میں سے 97 فیصد بلیو کالر ورکرز ہیں۔ سعودی حکام نے ہمیں مشورہ دیا ہے کہ آنے والے منصوبوں کے لیے درکار معیارات پر پورا اترنے کے لیے پاکستانی ورکرزکی پیشہ ورانہ تربیت کو بہتر بنایا جائے۔حکومت کو ورکرز کو جدید تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے تربیتی پروگرامز کو بڑھانا چاہیے۔قبل ازیں کے سی سی آئی جاوید بلوانی نے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط تجارتی و اقتصادی تعلقات کو تسلیم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب پاکستان کے لیے سب سے بڑا ترسیلات زر کا ذریعہ ہے جس نے مالی سال 2024 میں 7.5 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجیں جبکہ  اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی توسیع نے معیشت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سفیر کو دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے تعاون کو فروغ دینے کے تمام اقدامات کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔سینئر نائب صدر ضیاء العارفین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان کی سعودی عرب سے درآمدات اس کی برآمدات سے کہیں زیادہ ہیں۔ مشترکہ منصوبوں کو بڑھانے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانا تجارتی تعلقات کو متوازن کرنے کے لیے اہم ہے۔سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے خاص طور پر فوڈ سیکٹر اور سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز پر غور کرنا چاہیے۔