سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بجلی سیکیورٹی ڈپازٹ میں 26 سوفیصد اضافہ غیر منصفانہ، صنعتوں کیلئے تباہ کن ہے، کاٹی

کراچی31جنوری (پی پی آئی) کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر جنید نقی نے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے سیکیورٹی ڈپازٹ چارجز میں تقریباً 2600 فیصد اضافے کی درخواست کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ سراسر غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہے۔  انہوں نے کہا کہ پہلے ہی صنعتیں اور کاروباری طبقہ بجلی کے بلند ترین نرخوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اور اس قسم کے اضافی چارجز ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے۔ اگر یہ غیر معقول درخواست منظور کر لی گئی، تو اس کا اطلاق پورے کراچی سمیت پورے پاکستان پر ہوگا، جہاں صارفین پہلے ہی ملک میں سب سے زیادہ بجلی کے نرخ ادا کر رہے ہیں۔  صدر کاٹی نے مزید کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں پہلے ہی اربوں روپے کے غیر استعمال شدہ سیکیورٹی ڈپازٹس رکھتی ہیں، اس کے باوجود مزید اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو سراسر استحصالی رویہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخ بڑھنے کی وجہ سے کھپت میں پہلے ہی کمی ہو رہی ہے، اور اگر مزید مالی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو نئے اور موجودہ کنکشنز کی حوصلہ شکنی ہوگی، جس سے بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ جنید نقی کا کہنا تھا کہ یہ مجوزہ اضافہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ صدر کاٹی نے نشان دہی کی کہ B2 کیٹیگری کے کنکشن کے لیے سیکیورٹی ڈپازٹ 2,010 روپے فی کلو واٹ سے بڑھا کر 54,783 روپے فی کلو واٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو نئے اور موجودہ کنکشنز کے لیے مالی طور پر ناقابل برداشت ہوگا۔ بجائے اس کے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنی بلنگ اور ریونیو کلیکشن کے مسائل حل کریں، وہ اس کا بوجھ صارفین پر ڈال رہی ہیں، جو انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ جنید نقی نے واضح کیا کہ بجلی کے بلوں کی وصولی کے لیے پہلے ہی قانونی اقدامات موجود ہیں، جیسے کہ لینڈ ریونیو ایکٹ، اس کے باوجود اضافی سیکیورٹی ڈپازٹس کا مطالبہ غیر ضروری ہے اور صنعتی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اگر یہ درخواست منظور کر لی گئی، تو یہ ملک کی اقتصادی استحکام پر منفی اثر ڈالے گی۔ صدر کاٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں کو متوازن کرنے اور صنعتوں کی ترقی کے لیے کی جانے والی حالیہ کوششیں اس درخواست کی منظوری کے ساتھ ہی ضائع ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد فیکٹریاں گوداموں میں تبدیل ہو چکی ہیں، اور ہزاروں مزدور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث بے روزگار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے استفسار کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی حکومت فیصلہ کرے کہ آیا پاکستان کو صنعتی معیشت کے راستے پر گامزن رکھنا ہے یا تمام صنعتوں کو بند کر کے ملک کو درآمدی معیشت پر منتقل کرنا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان میں صنعت کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ جنید نقی نے مطالبہ کیا کہ وزارت توانائی اور نیپرا اس درخواست کو فوری طور پر مسترد کرے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ہدایت دے کہ وہ اپنے ریونیو کلیکشن کو بہتر بنائیں، مگر اس کا بوجھ صارفین پر نہ ڈالیں۔ ایسی پالیسیاں متعارف کرائی جائیں جو سستی اور قابل رسائی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ صنعتی ترقی اور معاشی استحکام برقرار رہ سکے۔