ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان نے 54 اسلامی ممالک کیلئے مشترکہ او آئی سی ویزہ کی تجویز پیش کردی

کراچی3 فروری (پی پی آئی)ایمپلائر فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے سابق صدر مجید عزیز نے تمام54 رکن اسلامک ممالک کے لیے ابتدائی طور پر تاجروں کے لیے ایک مشترکہ او آئی سی ویزہ کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا 5 سال، برطانیہ 10سال اور یورپی یونین 5 سال کے لیے ویزہ جاری کرتا ہے مگر کوئی بھی اوآئی سی ملک طویل مدت کے ویزے کی پیشکش نہیں کرتا۔پاکستانی تاجروں کو اگرچہ غیر اسلامی ممالک خطرہ نہیں سمجھتے لیکن اسلامی ممالک میں ایسا برتاؤ کا سامنا کرتے ہیں جیسے وہ خطرہ ہوں۔ان خیالات انہوں نے اسلامی چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ کے زیر اہتمام ”بزنس ٹورازم ایز اے ٹول فار پرفارمنگ سسٹین ایبل ٹورازم“ کے موضوع پر اپنے کلیدی خطاب میں کیا۔ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان  کے ترجمان کے مطابق انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ او آئی سی ممالک کے وزرائے داخلہ کا اجلاس بلایا جائے تاکہ ایک سیاحتی سہولت فریم ورک تیار کیا جا سکے اور ایک مشترکہ ویزا پالیسی وضع کی جا سکے۔انہوں نے سیاحت کو ایک سنجیدہ کاروبارقرار دیا جو معیشتوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان کے قدرتی حْسن سے بھرپور ورثے اور اسٹریٹجک محل وقوع کے باوجود ملک کا سیاحتی شعبہ جی ڈی پی میں 2 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے جو اس کی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری 425 ارب روپے سے زائد ہے جو پاکستان میں مجموعی سرمایہ کاری کا تقریباً 10 فیصد ہے۔انہوں نے سیاحت کے شعبے کو بحال کرنے کے لیے معیاری ہوٹلز تک رسائی کو یقینی بنانے اور آرام دہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر بہتری کی ضرورت پر زور دیا جس میں رہائش،کھانے اور کرایوں پر قیمت کی حد مقرر کرنا، سڑکوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اور سیاحتی مقامات کی صفائی کو بہتر بنانا شامل ہے۔ انہوں نے ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ پائیدار سیاحت کے لیے اقدامات متعارف کروانے کی بھی تجویز دی۔انہوں نے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم کے ٹورازم اینڈ ٹریول ڈیولپمنٹ انڈیکس کے مطابق پاکستان 119 ممالک میں 101 ویں نمبر پر ہے۔یہ مایوس کن درجہ بندی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے سیاحوں کی حفاظت اور سیکیورٹی کو اعلیٰ ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔مجید عزیز نے پاکستان کی سیاحتی کارکردگی کا علاقائی حریف ممالک کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا سالانہ 30 لاکھ سے زائد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور 4 ارب ڈالر کماتا ہے جبکہ ترکیہ 4 کروڑ 20 لاکھ سے زائد سیاحوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور 135 ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل کرتا ہے۔  انہوں نے بدھ مت، ہندو اور سکھ زائرین کے لیے مذہبی سیاحت کو فعال طور پر فروغ دینے کی درخواست کی اور تعصب کے رویے کی حوصلہ شکنی پر زور دیا۔انہوں نے سیاحت کی ترقی کے لیے ضروری آلات اور سہولیات پر درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس کو صفر یا کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے برانڈ پاکستان کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بھرپور وکالت کی اور سیاحتی سرگرمیوں کے انتظام میں مقامی کمیونٹیز کے انضمام پر زور دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

سکندر راجہ ملازمت مکمل ہونے کے بعد انٹرا پارٹی الیکشن کیس سننے کے اہل نہیں ' مسرت جمشید

Mon Feb 3 , 2025
لاہور3 فروری (پی پی آئی)پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ جلسے کرنا سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے لیکن جلسے کا اعلان ہوتے ہی وزیر داخلہ کی جانب سے ایک بار پھر عوام کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں،سکندر راجہ نے تمام فیصلے تحریک انصاف کے خلاف دیئے،ملازمت مکمل ہونے کے بعدوہ انٹرا […]