جمعیت علمائے اسلام نے امن و امان کی خراب صورتحال پر احتجاج کا اعلان کردیا

لاڑکانہ، 17فروری (پی پی آئی)جمعیت علمائے اسلام ضلع لاڑکانہ کی مجلس عاملہ کا اجلاس نائب امیر مولانا عبدالغفار جویو کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ میں نہروں کی تعمیرات اور امن و امان کی خراب صورتحال پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔پی آئی رپورٹر کے بیان کے مطابق، اجلاس کی کاروائی ضلعی جنرل سیکریٹری محبت علی کھڑو نے چلائی۔ اجلاس میں مختلف علماکرام نے شرکت کی جن میں مولانا محمد الیاس چنہ، مولانا علی محمد بروہی، مولانا محفوظ الرحمن سومرو، مولانا نصیر احمد بھٹو، مولانا بشیر احمد بھٹی، فقیر سکندر نقشبندی، حافظ محمد عثمان جھتیال، عبدالمتین سھڑو، غلام مرتضی، غلام حیدر دل، مولانا حمید اللہ شامل تھے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں نہروں کے منصوبوں کے خلاف تحصیل سطح پر 20 فروری کو اور ضلع لاڑکانہ ہیڈ کوارٹر پر 25 فروری کو احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔محبت علی کھڑو نے گفتگو کرتے ہوئے دریائے سندھ پر بننے والے نہروں کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ سندھ کو بنجر کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی معیشت اور زراعت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے شہری علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہو جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ میں بدامنی کی صورتحال تشویشناک ہے۔ چوری، ڈکیتی اور اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ حکومت اور پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہیں۔جمعیت علماء   اسلام نے لاڑکانہ کے شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے جدوجہد کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Leave a comment