روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی چیمبرمیں ممبران مفت میڈیکل کیمپ منعقد، بلڈ شوگر، کولیسٹرول ٹیسٹ کی خدمات فراہم

کراچی،17فروری (پی پی آئی)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے اپنے ممبران اورکمیونٹی کی وسیع تر خدمت کے لیے ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری اینڈ ڈائیگنوسٹک سینٹر، المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ، خادم انسانیت اور پاکستان آئی بینک سوسائٹی کے اشتراک سے کے سی سی آئی میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا۔اس ایونٹ میں کے سی سی آئی کے ممبران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی جو اس اقدام کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔کیمپ میں بلڈ شوگر، کولیسٹرول، ہڈیوں سے متعلق ٹیسٹ اور سی بی سی ٹیسٹ سمیت بنیادی صحت کی خدمات فراہم کی گئیں نیز ماہر جنرل فزیشنز اور ڈرمیٹالوجسٹ نے مفت مشاورت بھی فراہم کی۔کے سی سی آئی کے صدر محمد جاوید بلوانی، سینئر نائب صدر ضیاء  العارفین، نائب صدر فیصل خلیل احمد، ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سب کمیٹی کے چیئرمین فرحان اشرفی اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے بھی کیمپ کا دورہ کیا۔ صدر کے سی سی آئی محمد جاوید بلوانی نے ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری اینڈ ڈائیگنوسٹک سینٹر، المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ، خادم انسانیت اور پاکستان آئی بینک سوسائٹی کے ساتھ اشتراک کو سراہا جس کی بدولت کامیابی کے ساتھ مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد ممکن ہوا۔انہوں نے کہا کہ کے سی سی آئی طویل عرصے سے نہ صرف تاجر برادری بلکہ کراچی کے شہریوں کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے مصروف عمل ہے۔کے سی سی آئی انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے پْرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جہاں کاروباری ماحول کو فروغ دینے پر توجہ دیتے ہیں وہیں ہم ایسے سماجی امور میں بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں جو معاشرے کی بہتری میں مددگار ثابت ہوں۔آج کا میڈیکل کیمپ ہماری مسلسل کوششوں کی ایک مثال ہے۔صدر کے سی سی آئی نے پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم کے سنگین مسائل پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچرکی توسیع سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔عوامی اور نجی ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والوں کی کوششوں کے باوجود لاکھوں شہری خاص طور پر سرکاری اسپتالوں میں طویل انتظار کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے صحت کے شعبے کے لیے ناکافی فنڈنگ کے اہم چیلنج کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا محدود ہیلتھ کیئر بجٹ اپنی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔انہوں نے ضروری میڈیکل ٹیسٹ کی قیمتوں میں کمی اور سرکاری اسپتالوں میں زیادہ سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا جو فی الحال محدود وسائل کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ یہ ضروری ہے کہ بنیادی صحت کے چیک اپ سب کے لیے قابل رسائی ہوں۔ حکومت کو عوامی صحت کے لیے فنڈنگ کو ترجیح دینی چاہیے اور سرکاری اسپتالوں میں بہتر حالات کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ مجموعی ہیلتھ انفراسٹرکچرکو بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری اینڈ ڈائیگنوسٹک سینٹر، المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ، خادم انسانیت اور پاکستان آئی بینک سوسائٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ آرگنائزیشنز ہیلتھ کیئر سیکٹر میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی معیاری خدمات، سستی اور انسانیت پر مبنی دیکھ بھال کے لیے غیر متزلزل عزم دوسروں کے لیے ایک مثال ہے۔