سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

موسمی تبدیلیوں سے قلت آب سنگین، روایتی طریقے پانی کی طلب کو پورا نہیں کرسکتے:پریتم داس

حیدر آباد20فروری (پی پی آئی)سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیے جانے والے سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ  کے تحت کینال ماڈرنائزیشن منصوبے کے سلسلے میں سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کی جانب سے مقامی ہوٹل میں ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس ورکشاپ میں SIDA کے مینیجنگ ڈائریکٹر پریتم داس، پروجیکٹ ڈائریکٹر جمال منگھن، جنرل مینیجر سجاد سومرو، کمیونیکیشن اسپشلسٹ حزب اللہ منگریوں، آبادگار تنظیموں کے رہنماؤں، کسانوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کے بیان کے مطابق۔ پریتم داس نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں فصلوں کو پانی مہیا کرنے کے روایتی طریقوں پر اکثر انحصار کیا جاتا ہے، لیکن موسمی تبدیلیوں کے باعث پانی کی قلت کا مسئلہ بڑھ چکا ہے، جس کے باعث روایتی طریقے پانی کی طلب کو پورا نہیں کرسکتے۔SWAT منصوبہ سندھ حکومت اور عالمی بینک کی مدد سے شروع کیا گیا ہے، جس میں آبپاشی نظام کی بحالی، پانی کی وقت پر فراہمی کے جدید طریقوں کو یقینی بنانے اور زرعی پیداوار کو بڑھانے کی منصوبہ بندی شامل ہے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی جمال منگھن نے کہا کہ  سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ منصوبے کے آبپاشی والے حصے پر عملدرآمد سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے میں کینال ماڈرنائزیشن کا نیا ماڈل متعارف کروایا گیا ہے، جس کا مقصد پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ورکشاپ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کے ذریعے کم لاگت سے آبادگاروں اور کسانوں کی زرعی پانی کی قلت پوری ہوگی اور پانی کی چوری کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے تحت پانی کی انتہائی قلت کے باوجود بھی زرعی پانی کی طلب پوری کی جائے گی۔پراجیکٹ کے مقاصد میں پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور زرعی پانی کے صحیح استعمال کی منصوبہ بندی شامل ہے، جبکہ زرعی پانی کی مقدار کی ناپ تول کے لیے جدید مشینری بھی فراہم کی گئی ہے۔پراجیکٹ ایکسپرٹس نے بتایا کہ سندھ میں کینال ماڈرنائزیشن کو شروع کرنے سے پہلے سندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی نے ایک جامع تربیتی پروگرام شروع کیا ہے، جس کے تحت متعلقہ برانچز، آبادگار تنظیموں اور واٹر کورس ایسوسی ایشنز کو اس کے طریقہ کار سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہیں۔اس منصوبے کا پائلٹ پروجیکٹ ابتدائی طور پرسندھ ایریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی کے انتظام کے تحت تین ایریا واٹر بورڈز ناراکئنال، لیفٹ بینک، اور گھوٹکی فیڈرکئنال کی ایک ایک کینال پر شروع کیا جارہا ہے، جس کے بعد تینوں ایریا واٹر بورڈز کے 15 کینالوں میں اس کا آغاز کیا جائے گا۔