پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں زبانوں کا تنوع: حیثیت، حقوق اور شناختی قبولیت’ کے موضوع پر کانفرنس منعقد

اسلام آباد،26فروری (پی پی آئی) اکادمی ادبیات پاکستان میں ‘پاکستان میں زبانوں کا تنوع: حیثیت، حقوق اور شناختی قبولیت’ کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا انعقاد مشترکہ طور پر سندھی لینگویج اتھارٹی اور اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں لسانی تنوع کے فروغ اور تمام زبانوں کی یکساں حیثیت کی قبولیت کے لئے بات چیت اور مذاکرات کو آگے بڑھانا تھا۔ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے بیان کے مطابق، سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے اپنے خطاب میں پاکستان میں زبانوں کی تحریک پر روشنی ڈالی اور یونیسکو کے مادری زبانوں کے عالمی دن کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلادیش کی تحریک کا خاص ذکر کیا۔ انہوں نے اردو اور انگریزی کو سرکاری زبان برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی تمام مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔رضا ربانی نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ لسانی حقوق کو اپنا نصب العین بنا لیں اور آئین کے آرٹیکل ۲۵۱- بی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے صوبوں کی زبانوں کو سرکاری زبانیں قرار دینے کی سفارش کی۔معروف دانشور جامی چانڈیو نے کہا کہ کثیرالسانی ملک لسانی شناخت اور تنوع کا مسئلہ حل کئے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دنیا بھر میں ہزاروں زبانوں کو معدومی کا خطرہ لاحق ہونے کا ذکر کیا۔کانفرنس کے میزبان، ڈاکٹر اسحاق سمیجو نے ریاست کی ایک زبان والی پالیسی پر تنقید کی اور تمام زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔معروف مصنفہ ثروت محی الدین نے کہا کہ زبانیں معاشرتی ماحول اور جغرافیے سے جنم لینے والے اہم جْز ہیں اور ان کے تحفظ اور فروغ کی ذمہ داری خود افراد پر ہے۔منور حسن نے ریاست کی لسانی وحدت والی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور والدین کو مادری زبان کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا۔انعام شیخ نے کہا کہ پاکستان کی تمام زبانوں میں وسیع ورثہ موجود ہے اور انہیں قومی سطح پر شناخت فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے نو آبادیاتی نظام کی مصنوعی شناختوں کا ذکر کیا۔بلوچی زبان کے مصنف ڈاکٹر واحد بخش بزدار نے اسکولوں میں مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔پشتو زبان کی نمائندگی کرتے ہوئے احمد خلیل نے زبانوں کے تحفظ کے لئے انہیں معاشیات کی زبان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔سرائیکی زبان کی نمائندگی کرتے ہوئے مظہر عارف نے زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ عوامی سطح پر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کانفرنس کا اختتام اس متفقہ مطالبے سے ہوا کہ تمام زبانوں کو یکساں قبولیت دیتے ہوئے انہیں قومی زبانیں قرار دینا چاہئے۔ ثقافتی اور لسانی تنوع کو پاکستان کی اہم خوبی اور طاقت کے طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ ریاستی پالیسیاں پاکستان کے ثقافتی اور لسانی ورثے کی عکاس ہونی چاہئیں۔