کراچی ڈیفنس سوسائٹی میں نوجوان خاتون نے مبینہ طور پر گولی مار کر خودکشی کر لی

کوٹ غلام محمد میں 5 بچوں کی ماں کرنا کولہی نے رسہ گلے میں ڈالکر خود کشی کر لی

خطرناک مسلح مجرم ٹھٹھہ پولیس سے مقابلے میں گرفتار ،ساتھی فرار ،سیاحوں سے چھینے گئے قیمتی موبائل فون برآمد

اوکاڑہ میں المناک حادثہ ، ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی، 14 سالہ بچہ جاں بحق

وفاقی وزیر صحت کی وزیراعظم سے اہم ملاقات ، صحت کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت

ایس ای سی پی نے ”سرٹیفکیٹ آف اسٹیچوٹری کمپلائنس” فریم ورک متعارف کرا دیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سول اسپتال کراچی میں میڈیکل اور سرجیکل ٹاور، لاڑکانہ میں انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی کے قیام کا فیصلہ

کراچی،6مارچ (پی پی آئی)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ صحت کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے چار سالہ صحت کے اشاریوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں صحت کے نظام کی بہتری اور خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق، اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، محتسب سندھ سہیل راجپوت، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ اور سیکریٹری پاپولیشن حافظ عباسی نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ سندھ حکومت کی معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی کوریج 69 فیصد ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ای پی آئی کوریج کو 95 فیصد تک بڑھانے کی ہدایت دی۔اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کمیونٹی تک رسائی 41 فیصد ہے، جبکہ ایک لیڈی ہیلتھ ورکر 1200 افراد کی آبادی کے لیے مقرر ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے وزیر صحت کو ہدایت دی کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کوریج کو 80 فیصد تک بڑھایا جائے۔وزیراعلیٰ نے سول اسپتال کراچی میں میڈیکل اور سرجیکل ٹاور بنانے کی ہدایت کی، جبکہ لاڑکانہ میں انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ میں 42 ہزار کی آبادی پر ایک نرس موجود ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ نے مزید نرسوں کی بھرتی کے احکامات جاری کیے تاکہ طبی سہولیات کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے 3500 ویکسینیٹرز اور ٹیکنیکل اسٹاف بھرتی کرنے کا بھی فیصلہ کیا، جبکہ 11 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز کے قیام کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں 714 آؤٹ پیشنٹ تھیراپیوٹک پروگرام سائٹس کی بحالی اور 125 غیر مواصلاتی اسکریننگ یونٹس کی بہتری کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ضلعی اور تعلقہ ہیڈکوارٹرز سمیت رولر ہیلتھ سینٹرز میں 125 یونٹس ثانوی سطح پر صحت کی سہولیات فراہم کریں گے۔