مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کا اجلاس ، انتخابی کامیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا جائزہ لیا

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس، پاکستان ریلوے میں اسٹریٹجک اصلاحات کی منظوری

سندھ پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان قبل از ٹرائل ہم آہنگی کے حوالے سے اہم اجلاس ، تفصیلی غور و خوض

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ

صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر کے سالانہ عرس کی تیاریاں ، سیکیورٹی پلان تیار

ملکی گولڈ مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مہنگائی 9 سال کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد بلند شرح سود کا جواز نہیں، کاٹی

کراچی،6مارچ (پی پی آئی)کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے قائم مقام صدر اعجاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح کم ترین سطح پر آچکی ہے، جس کے بعد اسٹیٹ بینک کو شرح سود میں واضح کمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 10 مارچ 2025 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں صنعت اور معیشت کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں فروری 2025 میں مہنگائی کی شرح 1.5 فیصد پر آگئی ہے، جو گزشتہ 9 سال کی کم ترین سطح ہے۔ اس کے باوجود شرح سود 12 فیصد پر برقرار رکھنا صنعتوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اعجاز احمد شیخ نے کہا کہ فروری میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں 0.8 فیصد کمی ہوئی، جبکہ مالی سال 2024-25 کے پہلے آٹھ مہینوں میں اوسط مہنگائی 5.85 فیصد رہی، جو گزشتہ سال 27.96 فیصد تھی۔ ان کے مطابق، مہنگائی میں مسلسل کمی کے باوجود بلند شرح سود برقرار رکھنے سے صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاروباری لاگت کو کم کرنے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔ اسٹیٹ بینک کو حقیقت پسندانہ پالیسی اپناتے ہوئے صنعت کو سہارا دینا ہوگا تاکہ معیشت آگے بڑھ سکے۔قائم مقام صدر کاٹی نے حکومت اور پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کاروباری طبقے کے مسائل کو مدنظر رکھیں اور صنعتی ترقی کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ سخت مالیاتی پالیسی جاری رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور برآمدات کو فروغ ملے۔