خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بلوچستان میں اقلیتی خواتین کی ترقی کے لیے ویمن ڈویلپمنٹ اور اقلیتی امور کے محکموں میں معاہدہ

کوئٹہ،11مارچ (پی پی آئی)بلوچستان میں اقلیتی خواتین کی ترقی اور ان کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (ڈبلیو ڈی ڈی) اور محکمہ اقلیتی امور کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی، پارلیمانی سیکرٹری اقلیتی امور سنجے کمار، سینیٹر دنیش کمار، ایم پی اے روی کمار اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔پریس ریلیز کے مطابق ایم او یو پر ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سیکرٹری سائرہ عطاء   اور محکمہ اقلیتی امور کی جانب سے سیکرٹری سعید احمد عمرانی نے دستخط کیے۔ معاہدے کا مقصد اقلیتی خواتین کے لیے معاشی ترقی کے مواقع پیدا کرنا، انہیں ہنر مند بنانا اور سرکاری ملازمتوں میں ان کی معاونت کرنا ہے۔مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں اقلیتی خواتین کو ہنر مندی کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں اور اپنے خاندان کی کفالت میں کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتی خواتین کو تمام شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرے گی۔پارلیمانی سیکرٹری اقلیتی امور سنجے کمار نے کہا کہ اقلیتی برادری کی خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے کو اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ بلوچستان حکومت خواتین کے حقوق اور ترقی کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور یہ معاہدہ انہی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی خواتین کی ترقی سے ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی اور یہ بلوچستان کی مجموعی ترقی میں کردار ادا کریں گی۔ایم پی اے روی کمار نے کہا کہ اس معاہدے سے اقلیتی خواتین کی خود مختاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام برادریوں کی خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ اقلیتی امور کے اشتراک سے خواتین کی فلاح و بہبود کے نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیے ٹرینرز کا انتخاب بھی اقلیتی برادری سے ہی کیا جائے گا تاکہ انہیں مالی استحکام حاصل ہو اور وہ اپنے حقوق سے مزید آگاہ ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ بلوچستان میں اقلیتی خواتین کی ترقی کے لیے ایک عملی قدم ہے جو ان کے لیے بہتر مستقبل کی راہیں ہموار کرے گا۔