آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا،پاکستان میں صدارتی نظام کی ضرورت ہے: طاہر کھوکھر

مظفر آباد،12مارچ (پی پی آئی) سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے کہا ہے کہ پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے صدارتی نظام ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی نظام کی وجہ سے ملک شدید بحرانوں کا شکار ہے اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ صدارتی طرز حکومت ہے۔یہ بات انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی، جس میں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام نے ملک میں علاقائی، نسلی اور مذہبی مسائل کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیاسی اور اقتصادی صورتحال متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت سیاسی اشرافیہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے قرضوں میں اضافہ کر رہی ہے۔طاہر کھوکھر نے کہا کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں صدارتی نظام رائج ہے، جس کے باعث وہاں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایوب خان کے دور میں پاکستان میں صدارتی نظام نافذ تھا اور اس دور میں صنعتی اور اقتصادی ترقی دیکھی گئی، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام کی بحالی کے بعد سے ملک قرضوں میں جکڑا جا چکا ہے اور معیشت مسلسل زوال پذیر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارلیمانی جمہوریت کے نام پر چند بڑی سیاسی جماعتیں ملک پر مسلط ہو چکی ہیں، جو عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔طاہر کھوکھر نے کہا کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے کوشش کریں گے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مفاد میں فیصلے کریں اور اس حوالے سے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے تو ملک کو ایک مستحکم قیادت کی ضرورت ہے، جو صرف صدارتی نظام کے ذریعے ممکن ہے۔