خیر پور کے گاؤں میر محمد اجن میں دو بھائی بہن تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قیمتوں میں اضافہ

سندھ کابینہ کا اجلاس ، صحت انشورنس اور انسداد منشیات پر اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی

کراچی بابا بھٹ آئی لینڈ سے لاپتہ بچی کی لاش منوڑہ کچی لائن سے مل گئی

ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں ایک ماہ سے کم عمر 675 بچے روزانہ مرجاتے ہیں: ڈبلیو ایچ او

کراچی، 7اپریل (پی پی آئی)ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے عالمی اور قومی شراکت داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کو روکنے کے لیے فوری سرمایہ کاری کریں۔ یہ اہم بیان ڈبلیو ایچ او کی جانب سے عالمی یوم صحت کے موقع پر جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر روز ایک ماہ سے کم عمر کے 675 بچے اور 27 مائیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ یعنی سالانہ 246,300 سے زیادہ نوزائیدہ اور 9,800 سے زیادہ خواتین زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ ملک میں ہر سال 190,000 سے زیادہ مردہ بچوں کی پیدائش کا بھی ریکارڈپر ہے۔ڈبلیو ایچ او نے عالمی تھیم “صحت مند آغاز، امید مند مستقبل” کے تحت تمام ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو معیاری صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے اپنے عزم کی تجدید کی۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر ڈیپینگ لوو نے تیز تر کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر زچہ یا نوزائیدہ کی موت بہت بڑا نقصان ہوتاہے۔انہوں نے کہاکہ زچگی اور نوزائیدہ کی صحت میں لگائے گئے ہر US$1 سے US$9 سے US$20 کے درمیان منافع مل سکتا ہے،اس طرح سرمایہ کاری کر کے صحت کے شعبہ کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کی طرف سے کی گئی پیش رفت پر روشنی ڈالی، 2006 اور 2024 کے درمیان زچگی کی شرح اموات فی 100,000 پیدائش پر 276 سے کم ہو کر 155 رہ گئی۔ 2000 میں پیدائش کی شرح 39.8 فی 1000 پیدائش تھی جو 2024 میں 27.5 ہوگئی۔عالمی تنظیم نے زچگی اور نوزائیدہ تشنج کو کنٹرول کرنے میں پاکستان کی کامیابیوں کو بھی تسلیم کیا۔ مارچ 2025 تک، ICT اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اس بابت خاتمے کے اہداف تک پہنچ گئے، دسمبر 2024 میں سندھ اور 2016 میں پنجاب کے بعد۔ آج، ملک کی 80% آبادی ان علاقوں میں رہتی ہے جن میں تشنج کی منتقلی کنٹرول  میں ہے۔ڈبلیو ایچ او کی ترجیحات میں جنسی اور تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی کو بڑھانا، قبل از پیدائش اور پیدائش کی دیکھ بھال، نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال بشمول دودھ پلانا اور انفیکشن سے بچاؤ، اور انیمیا جیسی بالواسطہ وجوہات کو حل کرنا شامل ہے جو41.7 فیصد نوجوان خواتین کو متاثر کرتی ہے۔ڈبلیو ایچ او نے مڈوائفری کی دیکھ بھال، دماغی صحت میں معاونت، خاندانی منصوبہ بندی، اور خواتین کو صحت سے متعلق فیصلے کرنے میں بااختیار بنانے کے لیے معاشی اور تعلیمی مواقع کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ڈبلیو ایچ او نے سب کے لیے صحت کے حصول اور آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند مستقبل کی تعمیر کے لیے پاکستان کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔