خیر پور کے گاؤں میر محمد اجن میں دو بھائی بہن تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، یورو، پاؤنڈ، درہم اور ریال کی قیمتوں میں اضافہ

سندھ کابینہ کا اجلاس ، صحت انشورنس اور انسداد منشیات پر اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ 2 اگست کو ہوگی

کراچی بابا بھٹ آئی لینڈ سے لاپتہ بچی کی لاش منوڑہ کچی لائن سے مل گئی

ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ کے تعلیمی نظام پر سپلا کے تحفظات

کراچی،7اپریل (پی پی آئی) سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن (سپلا) نے صوبے کے تعلیمی نظام کی تباہی کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین بورڈز کی تعیناتی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سپلا کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی بورڈز کے معاملات کو پروفیشنل ماہرین کے سپرد کیا جائے۔سپلا کے مرکزی صدر منور عباس اور کراچی ریجن کے صدر رسول قاضی سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ چیئرمین بورڈز میں ماہرین تعلیم کو منتخب نہ کرنا امتحانی نظام پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔سپلا کے رہنماؤں نے کہا کہ تعلیمی بورڈز ایک ٹیکنیکل ادارہ ہے جس کے لیے ماہرین تعلیم کو تعینات کرنا ضروری ہے۔ موجودہ تعیناتیوں میں اقربا پروری کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے سرچ کمیٹی کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے۔سپلا کے مطابق غیر شفاف سرچ کمیٹی کے چناؤ سے منتخب کردہ چیئرمین نے عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی ہے، جس سے تعلیمی بورڈز کی انتظامیہ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔سپلا نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ چیئرمین بورڈ، ناظم امتحانات اور سیکرٹری بورڈز کی تعیناتی میں میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین تعلیم کو ہی منتخب کیا جائے تاکہ تعلیمی نظام کی بہتری ممکن ہو سکے۔