شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

دنیا بھر میں اعضاء عطیہ کرنے اور ان کی ضرورت کے درمیان فرق ہے، عالمی ماہرین

کراچی، 12اپریل (پی پی آئی)اعضا کی پیوند کاری کے عالمی اور ملکی ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں اعضاء عطیہ کرنے اور ان کی ضرورت کے درمیان فرق ہے اسی لیے مصنوعی اعضاء اور حیوانوں کے اعضاء ٹرانسپلانٹ کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں ٹرانسپلانٹ نے ہزاروں زندگیاں بچائی ہیں لیکن ان سے کہیں زیادہ زندگیاں مزید بچائی جا سکتی ہیں اگر اعضا عطیہ کرنے کے متعلق شعور و آگاہی پیداکر کے غلط تصورات کو ختم کیا جائے۔ترقی یافتہ ممالک میں پوسٹ ٹرانسپلانٹ انفیکشنز موت کا سبب بنتے ہیں۔ ان کو کم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور دواؤں کے ذریعے ان خطرات کو ختم کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں پوسٹ ٹرانسپلانٹ خطرات میں کمی یا خاتمے کے لیے دوائیں بہت زیادہ دستیاب نہیں اور جو دستیاب ہیں وہ بہت مہنگی ہیں۔ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں فرسٹ انٹرنیشنل کانفرنس آن ٹرانسپلانٹ کے پہلے روز کی افتتاحی تقریب میں شکاگو کے پروفیسر جان فنگ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور دواؤں کے ذریعے پوسٹ ٹرانسپلانٹ پیچیدگیوں پر قابو پایا جا رہا ہے۔ اٹلی کے پروفیسر پاؤلو گراسی نے کہا کہ بعد از ٹرانسپلانٹ مریضوں کو وائرل انفیکشنز سے بچانا بڑا چیلنج ہوتا ہے۔کانفرنس کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے یونیورسٹی آف میری لینڈ کے پروفیسر محمد منصور محی الدین نے کہا کہ دنیا میں انسانوں کے اعضاء کی رسد اور طلب کے درمیان بڑا فرق ہے۔ جانوروں کے اعضاء کے استعمال پر کام جاری ہے تاکہ انہیں انسانی اعضاء کے حجم کے مساوی بنایا جا سکے۔مفتی راغب حسین نعیمی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علماء نے کہا کہ دماغی موت کے بعد بعض شرائط کے تحت انسانی اعضاء عطیہ کیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر سہیل راؤ نے کہا کہ دو روزہ کانفرنس میں بائیس بین الاقوامی سطح کی پریزینٹیشن دی گئی ہیں۔ پروفیسر عدنان شریف نے کہا کہ گردے کے ٹرانسپلانٹ کے بعد انفیکشنز کے خطرات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیونو سپریشن دواؤں کے نتیجے میں بھی مریض کینسر کا شکار ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر ایاز نے کہا کہ زندہ افراد سے گردہ نکالنے کے لیے نئے طریقے اہم ہیں۔ڈاکٹر عاصم احمد نے کہا کہ پاکستان میں اعضا کی پیوندکاری کے لیے منصفانہ نظام بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پیوندکاری کے عمل کو محفوظ اور سب کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے مضبوط قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر تصدق خان نے کہا کہ گردوں کی شدید قلت سے ہزاروں مریض موت کے دہانے پر ہیں۔ انہوں نے عطیہ دہندگان کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔