کراچی، اپریل24 (پی پی آئی)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو کھلی جارحیت اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے، اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔جمعرات کو جاری کردہ ایک سخت بیان میں میمن نے کہا کہ بھارت کا یہ فیصلہ نہ صرف اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں جاری امن کوششوں کو سبوتاڑ کرنے کی منظم کوشش بھی معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت ماضی میں بھی عالمی توجہ ہٹانے کے لیے من گھڑت کارروائیوں کا سہارا لیتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران ایک جعلی آپریشن کے ذریعے سکھ شہریوں کا قتل عام کیا گیا، اور اب پاہلگام میں اسی نوعیت کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے میمن نے سانحہ آرمی پبلک اسکول اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا ذکر کیا، اور کہا کہ پاکستان نے عالمی امن کی خاطر بھاری قیمت چکائی ہے۔انہوں نے کہا، “سندھ طاس معاہدے کی معطلی محض دو طرفہ تنازع نہیں، بلکہ یہ بھارت کی طاقت کے اظہار کے بہانے خطے کی صورتحال کو بگاڑنے کی خطرناک علامت ہے۔”
میمن نے بھارت کے اس اقدام کو اخلاقی دیوالیہ پن قرار دیا اور عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے سفارتی سطح پر مداخلت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معاہدوں کے احترام کو یقینی بنایا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
