شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

آر ٹی او-1 کی بڑی کارروائی: ایم اے جناح روڈ پر معروف لائٹنگ اسٹور سیل

کراچی، 17مئی (پی پی آئی)ریجنل ٹیکس آفس-1 (آر ٹی او-1) نے سیلز ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک معروف لائٹنگ اسٹور کو سیل کر دیا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب اسٹور کی جانب سے ایف بی آر سے منسلک پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم کے بغیر رسیدیں جاری کی جا رہی تھیں۔کارروائی سیلز ٹیکس قوانین 2006 کے رول 150 زیڈ ای او کے تحت کی گئی، جو کہ پی او ایس نظام سے غیر منسلک سیلز پر پابندی عائد کرتا ہے۔ آر ٹی او-1 کی ٹیم نے اسٹور کی جانچ پڑتال کے بعد فوری طور پر اسے سیل کر دیا، جو کہ ادارے کی جاری مہم کا حصہ ہے۔چیف کمشنر آفس سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ آر ٹی او-1 پی او ایس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباری اداروں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ حکام کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کا مقصد قومی محصولات کے نظام میں شفافیت لانا اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے۔آر ٹی او-1 کے حکام نے اس موقع پر عزم ظاہر کیا کہ پی او ایس قوانین کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور مستقبل میں ایسی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے گی۔واضح رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے مقررہ پی او ایس سسٹم سے منسلک ہونا اْن تمام کاروباری اداروں کے لیے لازم ہے جو مخصوص کیٹیگریز میں آتے ہیں۔ اس نظام کے ذریعے فروخت کی معلومات براہ راست ایف بی آر کے سرور پر منتقل ہوتی ہیں جس سے ٹیکس چوری کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں بھی مارکیٹوں میں معائنہ جاری رہے گا اور غیر رجسٹرڈ یا غیر منسلک پی او ایس صارفین کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف ٹیکس نظام میں بہتری آئے گی بلکہ مارکیٹ میں یکساں مواقع کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔