شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ہوم بیسڈ ورکرز کا SESSI ہیڈ آفس کے سامنے احتجاج

کراچی، 19 مئی (پی پی آئی) سندھ سے تعلق رکھنے والی ہوم بیسڈ اور سیلف ایمپلائیڈ ورکرز کی یونینز نے  ہیڈ آفس کے سامنے پرامن احتجاج کیا۔ مظاہرے میں مختلف یونینز کی خواتین نے شرکت کی اور سوشل سیکیورٹی کارڈز کے اجراء کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے میں ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کا تعاون طلب کیا گیا تھا۔ ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی صدر سائرہ فیروز اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ہوم بیسڈ بینگل وومن ورکرز یونین کی پروین بانو نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ SESSI نے ورکرز رجسٹریشن کے لیے پورٹل متعارف کرایا تھا، تاہم سوشل سیکیورٹی کارڈ جاری نہیں کیے جا رہے ہیں۔ اقصیٰ کنول نے کہا کہ سندھ میں برسوں سے ایک جماعت کی حکومت ہے، مگر خواتین مزدور سوشل سیکیورٹی کارڈ سے محروم ہیں۔ مہرو ملک اور عینی یونس نے بھی مظاہرے سے خطاب کیا۔سائرہ فیروز نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ اگر سوشل سیکیورٹی کارڈز جاری نہ کیے گئے تو اگلا احتجاج چیف منسٹر ہاؤس کے سامنے ہوگا۔ فیڈریشن کے ذمہ داروں نے امید ظاہر کی کہ مظاہرے کے مثبت اثرات نکلیں گے اور SESSI کی گورننگ باڈی اس مسئلے پر بات کرے گی۔ممبر گورننگ باڈی مختار حسین اعوان نے شرکا کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔  وزیر محنت اسلام الدین تھیم، جو SESSI گورننگ باڈی کے چیئرمین بھی ہیں، نے شرکا کے مطالبات سنے۔ کمشنر SESSI میانداد راہجو نے ورکرز سے ماہانہ چندہ جمع کرنے کی شرط پر کارڈ کے اجراء کی یقین دہانی کرائی، حالانکہ سوشل سیکورٹی ایکٹ میں اس کی کوئی شق موجود نہیں۔