اسلام آباد، 23-جون (پی پی آئی): دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پیر کو عالمی یومِ بیوگان منایا گیا، جس کا مقصد بیوہ خواتین کو درپیش غربت، صحت اور قانونی چیلنجز کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے باعث مقبوضہ کشمیر کے تقریباً ہر گھر میں اپنے شوہر کو کھو دینے والی خواتین موجود ہیں اور مقبوضہ وادی میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 22 ہزار سے زائد خواتین بیوگی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔
لاکھوں کشمیری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر کئی برس سے لاپتا ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کشمیری خواتین کے لیے آدھی بیوہ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے، یعنی ان کے شوہر ہیں بھی اور نہیں بھی۔ شوہر کی وفات ایک گہرا صدمہ ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں یہ اکثر بقا، بنیادی حقوق اور احترام کے لیے جدوجہد کا باعث بنتا ہے۔
کووڈ-19 کی وبا نے بیوہ خواتین کے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے ان کی بیماری، خوف اور سماجی تعصب کا شکار ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
بہت سے ممالک میں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، بیوہ خواتین کو اکثر ان کے وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے اور انہیں سماجی طور پر الگ تھلگ اور بے اختیار کر دیا جاتا ہے۔ ماضی کی وباؤں کے دوران بھی ایسے ہی واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
