شفیلڈ سٹی کونسل میں ایک تقریب کے دوران کشمیر کے تنازعے پر عالمی سطح پر فہم کو از سر نو تشکیل دینے کے مقصد سے ایک نئی کتاب متعارف کروائی گئی۔ چودھری سعود سلطان کی تصنیف “جموں و کشمیر کی بھولی ہوئی کہانی” پر نوجوان کشمیری مصنف نے تفصیلی پریزنٹیشن دی۔
سلطان نے اپنی دو سالہ تحقیق کو بین الاقوامی معیار کا کام قرار دیا، جس کا مقصد کشمیر کے مسئلے کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کتاب کے اس مقصد پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی مباحثوں میں رائج مسخ شدہ اور نظر انداز کیے گئے بیانیے کا مقابلہ کرے۔ سلطان کا کہنا ہے کہ ان کی اشاعت تنازعے کا درست اور مستند احوال فراہم کرتی ہے، جو بین الاقوامی برادری کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہے۔
250 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں گیارہ ابواب ہیں، جن میں سے 50 صفحات حوالہ جات کے لیے مختص ہیں جو کتاب میں پیش کیے گئے دلائل اور دعووں کی تائید کرتے ہیں۔ سلطان نے وضاحت کی کہ وہ کس طرح تاریخی شواہد اور مدلل دلائل کا استعمال کرتے ہوئے 1947 میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے موقف کو للکار رہے ہیں۔ انہوں نے مہاجرین کے انٹرویوز اور دیگر جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں آزادیوں کے تقابلی تجزیے پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ موازنہ آزاد کشمیر میں زیادہ آزادیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
اس تقریب میں شرکت کرنے والی اہم شخصیات میں اعزازی صدارتی مشیر چودھری رسیب، ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ شفق محمد، شفیلڈ کی لارڈ میئر صفیہ سعید، کونسل لیڈر ٹام ہنٹ، ڈپٹی میئر رُدرم ہارون رشید، شفیلڈ کی ڈپٹی لیفٹیننٹ صغریٰ بیگم، اور کونسل کے کئی ارکان بشمول طالب حسین، عبدالقیوم، محمد معروف اور نگہت بشارت شامل تھے۔ دیگر شرکاء میں ماجد خان، عثمان، طارق حسین، معروف حسین اور چودھری عارف شامل تھے
