بدین میں پانی کی مصنوعی قلت کے باعث دھان کی زیر کاشت فصل شدید متاثر

غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں معمولی کمی ، اوپن مارکیٹ: ڈالر، یورو اور پاؤنڈ سستے ہوگئے

عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان

ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردئیے

چیئرمین ایس ای سی پی کا دورہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا جج کے بیٹے کے قتل کیس میں سزائیں کالعدم قرار

اسلام آباد، 12 ستمبر 2025 (پی پی آئی): سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کے جج خالد شاہانی کے بیٹے کے 2014 میں ہونے والے قتل کے ملزمان کو بری کردیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ناقص تفتیش اور کمزور استغاثہ کا حوالہ دیتے ہوئے ملزمان کو بری کیا ہے۔  سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جن میں سکندر لاشاری کو سزائے موت اور عرفان عرف فہیم کو 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے مختصر فیصلہ سنایا ہے، جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ناقص تفتیش اور کمزور استغاثہ کی وجہ سے ملزمان کی سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

واضح رہے کہ ابتدائی ٹرائل کورٹ نے 2014 میں جسٹس شاہانی کے بیٹے حنین طارق کے قتل کے الزام میں سکندر لاشاری کو سزائے موت اور فہیم کو 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔