کراچی کے قدیم شہر کے علاقے میں محمد شاہ اسٹریٹ کی تعمیر و بحالی کے کام اور شہر کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح

کراچی، 7 دسمبر 2025 (پی پی آئی): میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے آج کراچی کے قدیم شہر کے علاقے میں محمد شاہ اسٹریٹ کی تعمیر و بحالی کے کام اور شہر کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ 14 ارب روپے ٹاؤنز کو دیے گئے ہیں، 27 ارب روپے او زی ٹی (OZT) کے تحت موصول ہوئے ہیں اور 6 ارب روپے اضافی “کلک” کے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔ پہلے ایک یونین کونسل کو 5 لاکھ روپے ملتے تھے، جو اب بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹاؤنز کے پاس اس وقت سڑکوں کی کٹائی کے مد میں 70 کروڑ روپے موجود ہیں، جنہیں عوامی فلاح کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سال کراچی میں ترقی اور بہتری کا سال ہے۔ رواں سال کے ایم سی 30 ارب روپے شہر کے انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کر رہی ہے۔ سیاسی رسہ کشی اور تعصب کی سیاست کو ختم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ شہر ایک ہے، اس کا نظام بھی ایک ہونا چاہیے۔ اختیارات کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں مضبوط کیا جانا چاہیے۔ ماضی میں کے ایم سی کے اختیارات اور وسائل پر شکوک تھے، لیکن آج ثابت ہو گیا کہ کے ایم سی اپنے دستیاب وسائل میں رہ کر کام کر سکتی ہے۔ کے ایم سی کے اکاؤنٹ میں آنے والا ہر ایک روپیہ عوامی سہولت پر خرچ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرانے حب کینال منصوبے پر کام 31 دسمبر تک مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد شہر کو اضافی دو کروڑ (20 ملین) گیلن پانی دستیاب ہوگا۔ اسی طرح سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی مکمل طور پر فعال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے سمندر اور بحری حیات سے محبت کرتے ہیں اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔

یہ باتیں انہوں نے آج قدیم شہر کے علاقے میں محمد شاہ اسٹریٹ اور دیگر ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے موقع پر کہیں۔ اس موقع پر سٹی کونسل کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان اور دیگر منتخب نمائندے بھی موجود تھے۔

میئر کراچی نے کہا کہ وفاقی حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کے زیرِ انتظام علاقے میئر کے دائرہ اختیار میں آئیں، لیکن اس کے باوجود وہ تمام اداروں کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدیم شہر کراچی دو سو سال سے زیادہ پرانا تاریخی علاقہ ہے، یہاں کی عمارتیں 125 سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں، لیکن بدقسمتی سے اس علاقے کو طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کے علاقے برتن بازار، گلی جوریہ بازار اور کھجور بازار تباہ حالی کا شکار تھے، جہاں سیوریج کا نظام ناقابلِ استعمال تھا اور نکاسی آب انتہائی خراب تھی۔ سڑکیں اور گلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے شہری شدید مشکلات سے دوچار تھے۔ انہوں نے کہا کہ دو لاکھ اسکوائر فٹ سے زائد پیورز (pavers) بچھائے گئے ہیں اور مختلف سائز کی سیوریج لائنیں نصب کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں “چائنا کٹنگ” کے ذریعے اس علاقے کے سیاسی و انتظامی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی یہاں مسلسل نظرانداز کیا گیا، حالانکہ حقیقی سیاست عوامی خدمت ہے، اور صرف وہی جماعتیں عوام کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں جو ان کے مسائل حل کرتی ہیں۔

میئر کراچی نے کہا کہ بازاروں کے علاوہ اس علاقے میں پانچ مساجد بھی ہیں جہاں جمعہ کی نماز کے وقت نمازی شدید مشکلات کا سامنا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت اس علاقے سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اس کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں گے، اور اس وعدے کی تکمیل کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ قدیم شہر کی تنگ گلیوں میں پیور بلاکس نصب کیے گئے ہیں، سیوریج نظام کو جدید خطوط پر بہتر بنایا گیا ہے، اور ترقیاتی کام کے دوران متعلقہ عملہ علاقے کا بار بار دورہ کرتا رہا اور تاجروں سے مشاورت جاری رکھی گئی تاکہ ان کی ضروریات کو مدِنظر رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ کسی ایک جماعت یا فرد کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کا ہے، اور یہاں کے رہائشیوں اور تاجروں نے خود یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان ترقیاتی کاموں کا تحفظ کریں گے اور دوبارہ کھدائی یا نقصان کی اجازت نہیں دیں گے۔

میئر کراچی نے کہا کہ آج قدیم شہر میں ایک نیا منظر دکھائی دیتا ہے: گلیاں صاف ہیں، سڑکیں بہتر ہوگئی ہیں اور ماحول خوشگوار ہے، جس کی وجہ سے تاجر، رہائشی اور خریداری کے لیے آنے والے شہری مطمئن نظر آتے ہیں۔ یہ سڑکیں شہر کی مصروف شاہراہوں سے جڑی ہوئی ہیں، جس سے سفر مزید آسان ہو گیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 15 دسمبر تک ایک اور بڑے ترقیاتی منصوبے پر کام شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی چیمبر آف کامرس کے سامنے سڑک مکمل ہو چکی ہے، سول اسپتال سے حقانی چوک تک سڑک تیار کر دی گئی ہے، اور بولٹن مارکیٹ کے گرد پارکنگ کا مسئلہ بھی حل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیاری ٹاؤن کی اندرونی گلیاں 5 ارب روپے کی لاگت سے بہتر بنائی جا رہی ہیں۔ کے ایم سی کے انجینئرز کو 100 دن کا ہدف دیا گیا ہے تاکہ ترقیاتی کام وقت پر مکمل کیے جا سکیں۔ عظیم پورہ روڈ کی توسیع بھی جاری ہے تاکہ شاہ فیصل کالونی اور ایئرپورٹ جانے والے شہریوں کو سہولت ہو۔

انہوں نے کہا کہ لیاری مارکیٹ کو خوبصورت بنایا جائے گا، جبکہ 1926 میں تعمیر ہونے والے حسن علی ہوتی مارکیٹ کی بحالی جاری ہے اور یہ منصوبہ جنوری تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس تاریخی عمارت کے 100 سال مکمل ہونے پر خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی۔ ایمپریس مارکیٹ کی بحالی بھی جاری ہے اور یہ 31 جنوری تک مکمل کر دی جائے گی۔

میئر نے کہا کہ مسئلہ اختیارات کا نہیں بلکہ نیت کا ہے۔ ماضی میں سڑکوں کی کٹائی کے نام پر سڑکیں کاٹ دی جاتی تھیں مگر انہیں بحال نہیں کیا جاتا تھا، جبکہ اب اس نظام کو شفاف بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور مین ہول کورز کی فراہمی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ مین ہول کور کی چوری روکنے کے لیے انتظامیہ سے تعاون کریں اور شکایت کی صورت میں فوراً ہیلپ لائن پر اطلاع دیں۔

اس موقع پر مرتضیٰ وہاب نے دنیا بھر میں مقیم تمام افراد کو سندھی کلچر ڈے کی مبارکباد دی اور کہا کہ سندھ امن، محبت اور صوفیوں کی سرزمین ہے، اور یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی ثقافت کو اپنائیں اور اس پر فخر کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Next Post

وفاقی وزیر داخلہ نے 12 بھارتی پشت پناہی والے دہشت گردوں کے خاتمے پر سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سرا ہا

Sun Dec 7 , 2025
اسلام آباد، 7 دسمبر(پی پی آئی): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قلات میں ہونے والے اہم انسدادِ دہشت گردی آپریشن میں 12 بھارتی پشت پناہی والے دہشت گردوں کے خاتمے پر سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے خلاف دشمنانہ عزائم کو ناکام بنانے میں ایک […]