پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بدعنوانی، غربت، ناانصافی اور عالمی تباہی کی جڑ ہے:پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

کراچی، 9-دسمبر-2025 (پی پی آئی): پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ آج دنیا بھر میں یوم انسداد بدعنوانی کا دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد دنیا بھر سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہے جس کے باعث غربت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ بدعنوان حکومتوں اور انتظامیہ کے ہوتے ہوئے کس طرح بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہے؟ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی نہ صرف ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے بلکہ کئی خطوں میں جنگوں، خانہ جنگیوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے

انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے، قائد نے زور دیا کہ جب تک اس طرح کے غیر قانونی اقدامات کا ازالہ نہیں کیا جاتا، پاکستان سے بدعنوانی کا حقیقی خاتمہ ناممکن ہے۔ انہوں نے ملک میں وسیع پیمانے پر پھیلی کرپشن کو ریاستی اداروں کی کمزوری سے جوڑا، جو براہ راست شہریوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

پارٹی رہنما نے بدعنوان حکومتوں اور انتظامیہ کے اقتدار میں رہتے ہوئے انسداد بدعنوانی کا دن منانے کی افادیت پر سوال اٹھایا، اور کہا کہ یہی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ بدعنوانی بڑھتی ہوئی غربت، ناانصافی اور عالمی تباہی کی بنیادی وجہ ہے۔

قائد نے اپنی تنقید کو بین الاقوامی سطح تک بڑھاتے ہوئے بدعنوانی کو جنگوں، خانہ جنگیوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی جڑ قرار دیا۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال کو ایک واضح مثال کے طور پر پیش کیا اور “ظلم و بربریت کی داستان” کو “انسانی تاریخ کا بدترین باب” قرار دیا۔

انہوں نے سابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے کرپشن کیس میں معافی کی مبینہ اپیل کی طرف بھی اشارہ کیا، اور کہا کہ ایسے عالمی حالات انسداد بدعنوانی کا دن منانے کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔

ملکی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قائد نے شفاف احتساب، آزاد اور بااختیار اداروں، ایک مؤثر عدالتی نظام، اور حکمرانوں میں ایمانداری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ واحد راستے ہیں جن سے پاکستان “کرپشن کے اندھیروں” سے نکل سکتا ہے۔

عوام سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے عبدالحکیم قائد نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ نہ صرف بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے کا عہد کریں بلکہ اسے روکنے کے لیے عملی اقدامات بھی کریں۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ اگر عوام متحد ہو جائیں تو کرپشن کے بوجھ تلے دبے طاقتور ترین نظام بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔