پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عالمی بینک نے قدرتی آفات کو پاکستانی معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دے دیا پاکستان میں غربت میں کمی اور معاشی ترقی کی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، عالمی بینک

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)عالمی بینک نے موسمیاتی تبدیلی سے آنے والے سیلاب سمیت قدرتی آفات کو پاکستانی معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔میڈیا رپو رٹ کے مطابق ورلڈ بینک نے کنٹری کلائیمنٹ ڈیویلپمنٹ رپورٹ میں سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سال 2050 تک پاکستان کی معاشی گروتھ کے 15 سے 20 فیصد تک متاثر ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، اور آئندہ 8 سال میں جی ڈی پی کے 10 فیصد کے مساوی سرمایہ کاری لازمی قرار دے دی ہے۔رپورٹ میں قدرتی آفات کو پاکستانی معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پالیسی سازوں کیلئے حالیہ سیلاب ویک اپ کال ہے۔ عالمی بینک نے قدرتی آفات کو پاکستان میں غربت میں کمی اور معاشی ترقی کی کوششیں متاثرہونے کا خدشہ بھی ظاہرکیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سیلاب سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر نقصان ہوا، 3 کروڑ 30 لاکھ آبادی متاثر ہوئی۔ 1700 اموات کے علاوہ 80 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے، جبکہ اگلے30 سال میں پاکستان کی 60 فیصد آبادی شہروں میں رہ رہی ہوگی۔عالمی بینک نے بڑے شہروں کو رہنے کے قابل اور قدرتی آفات کے نقصانات سے محفوظ بنانے پر زوردیا ہے، اور زراعت و توانائی سمیت 5 شعبوں میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کیلئے میونسپل اور پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دے دی ہے۔عالمی بینک نے ایگری فوڈ سسٹم، شہری سہولیات، منیجمنٹ، توانائی، پانی، ہاؤسنگ، میونسپل سروسز اور اربن انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری پر زور بھی دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سرمایہ کاری سے پاکستانی معیشت ترقی کی منازل جلد طے کر سکتی ہے۔