ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

مزدوروں کی داد رسی کیلئے فورم نہ ہونے پرسندھ ہائیکورٹ کا اظہارِتشویش مت نے مزدوروں کی تنخواہ تو 25 ہزار مقررکردی ہے لیکن صرف کاغذوں میں اب بھی 10 ہزار ملتے ہٰں، پیٹرول پمپس پر کام کرنے والے مزدور رجسٹرڈ ہیں؟ 10 ملین فیملیز بنیادی حق سے محروم،مزید سماعت 7 فروری 2023 تک ملتوی

کراچی (پی پی آئی)سندھ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران صوبے میں سوشل سیکیورٹی کورٹس کے قیام کے معاملے پرعدالت نے مزدوروں کی داد رسی کے لئے کوئی فورم نہ ہونے پر تشویش کا اظہارکیا۔ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ حکومت نے مزدوروں کی تنخواہ تو 25 ہزار مقررکردی ہے لیکن صرف کاغذوں میں۔ مزدوروں کو اب بھی 10 ہزار تنخواہ دی جاتی ہے۔پی پی آئی کے مطابق عدالت نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کی حالت دیکھیں، ان کے پاس پہننے کیلئے کپڑے بھی نہیں۔ جو لوگ کمپنیوں میں مرتے اس کے ذمہ دار ہم ہیں، جو ان کے حقوق کی بات نہیں کرتے۔جسٹس صلاح الدین پہنورنے سیکریٹری لیبر سے استفسار کیا کہ پیٹرول پمپس پر کام کرنے والے مزدور رجسٹرڈ ہیں؟ بتائیں کسی مالک کی خلاف کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے؟عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ نے آگاہی مہم چلائی؟ مہم چلائیں جیسے سبیل لگاتے ہیں بتائیں کے ہم مزدروں کو رجسٹرڈ کر رہے ہیں۔ سیسی کا ادارہ فعال نہیں ہے۔محکمہ قانون کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات پرعمل درآمد کے لیے معاملہ کمشنر سیسی کے سامنے رکھا گیا تھا۔ کمشنرسیسی نے بتایا کہ لیبر کورٹس اس حوالے سے کام کررہی ہیں۔ لیبر کورٹس کیسز اور اپیلوں کی سماعت کررہی ہیں۔جواب میں بتایا گیا کہ سیکریٹری لیبر نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کی تھی۔ معاملہ کیبنٹ کے سامنے رکھا گیا ہے۔ کیبنٹ کو بتایا گیا کہ دو لیبر کورٹس میں 24 مقدمات زیر التواء ہیں۔ ان لیبر کورٹس کو سوشل سیکورٹی کورٹ بنایا جا سکتا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ صوبائی کیبنٹ کے ممبران کو عدالتی احکامات سے ٹھیک طرح اگاہ نہیں کیا گیا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور اس کیس پیش ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کیبنٹ ممبران کو ٹھیک طرح سے بریف کریں۔ صوبے میں کنزیومرکورٹس بنا دی گئی ہیں جو کریم اور اوبر کے کیسز بھی دیکھ رہی ہیں۔جسٹس صلاح الدین پہنورنے کہا کہ سوشل سیکیورٹی کورٹس قائم نہ کرنا 10 ملین فیملیز کو ان کو بنیادی حق سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 7 فروری 2023 تک ملتوی کردی۔