اسلام آباد، 17 جنوری 2026 (پی پی آئی)منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا ہے کہ ، پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ان کی دنیاوی زندگی میں ہی حق الیقین کا اعلیٰ ترین روحانی مقام عطا کیا گیا، جو انسانی تاریخ میں ایک بے مثال اعزاز ہے اور یہ مقام عام طور پر موت کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے۔
جامعہ شیخ الاسلام میں معراج النبی ﷺ کانفرنس سے ہفتہ کے روز خطاب کرتے ہوئے منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے واقعہ معراج کو انسانیت کے سفرِ یقین کی انتہا قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ آسمانی سفر علم اور مشاہدے سے آگے بڑھ کر ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ بن گیا۔
اسکالر نے ایمان کے ارتقاء کی تین بنیادی حالتوں کی وضاحت کی: علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں اکثر لوگ، حتیٰ کہ اولیاء کرام بھی، اس دنیا میں مشاہدے (عین الیقین) کی سطح تک محدود رہتے ہیں، وہیں معراج اس لحاظ سے منفرد تھا کہ نبی اکرم ﷺ کو حق الیقین کی تجرباتی حقیقت عطا کی گئی۔
پروفیسر ڈاکٹر قادری نے کہا کہ اس عظیم روحانی واقعہ کا امت مسلمہ کے لیے عملی پیغام نماز کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر بندے اور خدا کے درمیان مضبوط تعلق کا درس دیتا ہے، جس کی عملی شکل نماز ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کا آغاز نماز کی پابندی سے ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نماز نہ صرف فرد کی روحانی ترقی کا ایک ذریعہ ہے بلکہ معاشرتی نظم، اخلاقی پاکیزگی اور اجتماعی بہتری کی بنیاد بھی ہے۔ انہوں نے کہا، “معراج کا پیغام نماز ادا کرنے اور اس کی روح کو سمجھنے سے مکمل ہوتا ہے۔”
نبی اکرم ﷺ کے مقام کی بے مثال نوعیت کو اجاگر کرنے کے لیے پروفیسر ڈاکٹر قادری نے ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیا جس میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے میرا رب خود کھلاتا اور پلاتا ہے۔”
منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر نے نتیجہ اخذ کیا کہ معراج اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا مقام منفرد اور تمام مخلوقات سے بلند ہے، جو وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں کائنات کے کمال کی انتہا ہوتی ہے۔
