اسلام آباد، 22-جنوری-2026 (پی پی آئی): پاکستان کی کلیدی پالیسی ریٹ دو سال کی مدت میں بائیس فیصد کی ریکارڈ بلند ترین سطح سے کم ہو کر دس فیصد سے نیچے آ گئی ہے، ایک ایسی پیش رفت جسے معاشی ماہرین ملک کے مالیاتی منظر نامے کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
جمعرات کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات نے نتائج دینا شروع کر دیے ہیں، جس کی مثال اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ٹریژری بلز کی حالیہ نیلامی ہے جہاں شرح سود دس فیصد کی حد سے نیچے آ گئی۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، قرض لینے کی لاگت میں کمی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ملکی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے مستقبل کو زیادہ محفوظ اور سازگار سمجھ رہے ہیں۔ ان ماہرین کا ماننا ہے کہ شرح سود میں کمی سے عوام کو بھی ٹھوس فوائد حاصل ہوں گے۔
یہ توقع کی جا رہی ہے کہ کم شرح سود سے صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا، نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملے گی، اور ملک بھر میں روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
