پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نصیرآباد اسپتال کی تعمیر میں تاخیر پر 85 ویں روز بھی احتجاجی پیدل مارچ

نصیرآباد، 24 جنوری 2026 (پی پی آئی): نصیرآباد میں شہریوں کی احتجاجی تحریک مسلسل 85ویں روز میں داخل ہو گئی، جہاں مظاہرین نے ایک اہم مقامی اسپتال کی بحالی کے مطالبے پر منتخب نمائندوں اور محکمہ صحت کے حکام پر “اندھا، بہرا اور گونگا” بنے رہنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سجاگ شہری اتحاد (بیدار شہری اتحاد) کے زیر اہتمام ہفتہ کو ایک احتجاجی مارچ اور گنوال کلھوڑو گاؤں میں دھرنا شامل تھا۔ اس مہم کے بنیادی مقاصد تحصیل اسپتال کی بحالی اور رورل ہیلتھ سینٹر میں ڈاکٹروں اور ادویات کی شدید قلت کو دور کرنا ہیں۔

اتحاد کے رہنماؤں، بشمول صوفی غفار چنا اور آصف کاٹھیا، نے کہا کہ علاقے کے منتخب نمائندے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) قمبر اور دیگر بااختیار ادارے اس طویل احتجاج کے دوران “خاموش تماشائی” بنے ہوئے ہیں۔

اتحاد کے قائم مقام صدر صوفی غفار چنا اور جنرل سیکریٹری آصف کاٹھیا نے اپنی مہم کے دوران سامنے آنے والی وسیع پیمانے پر نظراندازی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تحصیل نصیرآباد بھر میں گاؤں کی سڑکیں خستہ حال ہیں اور رہائشی پانی، بجلی، گیس، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

گروپ نے سندھ حکومت سے ان کی حالت زار کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ نصیرآباد تحصیل اسپتال کے باقی ماندہ تعمیراتی کام کی تکمیل اور تحصیل کی تمام یونین کونسلوں کو متاثر کرنے والے بنیادی مسائل کے جامع حل کا مطالبہ کرتے ہیں۔

رہنماؤں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ تحصیل اسپتال کی مکمل بحالی اور فعال ہونے تک پرامن تحریک جاری رہے گی۔