اسلام آباد، 6 مارچ 2026 (پی پی آئی): پاکستان اور اوزبیکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کو تیز کرنے کے لیے آٹھ ورکنگ گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں۔
یہ فیصلہ آج اسلام آباد میں پاکستان اوزبیکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر اعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر خان نے کی۔
اجلاس کے اہم نکات:
تجارتی جائزہ: اجلاس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو وسعت دینے کے لیے نئے راستوں کی تلاش پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پانچ سالہ منصوبہ: ہارون اختر خان نے بتایا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت ایک پانچ سالہ روڈ میپ پیش کیا جائے گا، جس کا مقصد پاکستان اور اوزبیکستان کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔
متبادل تجارتی راستہ: انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کے ذریعے اوزبیکستان کے لیے ایک متبادل تجارتی راستہ زیادہ مختصر اور موثر ثابت ہو سکتا ہے، جس کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
شراکت داری کے شعبے: دونوں ممالک نے توانائی، نقل و حمل، زراعت اور صنعت جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
علاقائی رابطہ: اجلاس میں وسطی ایشیا تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے علاقائی رابطوں کو وسعت دینے اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔
شرکاء نے دوطرفہ تجارت کے حجم کو نمایاں طور پر بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات میں تیزی لانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس اجلاس میں سیکرٹری تجارت جواد پال، مختلف وزارتوں کے نمائندوں اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے حکام نے بھی شرکت کی۔
