کراچی، 20-مارچ-2026 (پی پی آئی): سندھ حکومت نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کرنے اور حکومتی اخراجات میں کمی لانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر، متعدد محکموں میں اپنے بیڑے کے 60 فیصد یعنی 1,500 سے زائد سرکاری گاڑیوں کا استعمال روک کر کفایت شعاری کے سخت اقدامات کیے ہیں۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، جو کفایت شعاری پر کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے آج ایک بیان میں اس فیصلے کی تصدیق کی۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ کل 2,837 گاڑیوں میں سے 1,524 کو سروس سے ہٹا دیا گیا ہے، جس سے 47 سے زائد صوبائی محکمے متاثر ہوئے ہیں، جن میں صحت، خزانہ، اسکول ایجوکیشن، توانائی، اور انسداد بدعنوانی جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔
وزیر نے بتایا کہ بعض محکموں میں گاڑیوں کی کمی کی شرح 65 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایک غیر معمولی کیس میں، بین الصوبائی رابطہ کاری کے محکمے کی پوری گاڑیوں کے بیڑے کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد توانائی کی کھپت کو کم کرنا، حکومتی اخراجات پر قابو پانا، اور ریاستی وسائل کے موثر استعمال کو فروغ دینا ہے۔ جناب میمن نے زور دیا کہ صوبائی حکومت قومی مفاد میں اپنی کفایت شعاری کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کر رہی ہے۔
توقع ہے کہ ان لاگت میں کمی کے اقدامات سے نہ صرف آپریشنل اخراجات کم ہوں گے بلکہ وسائل کے بہتر انتظام کی ثقافت کو بھی فروغ ملے گا۔ حکومت کا تخمینہ ہے کہ اس اقدام سے ایندھن کے اخراجات میں کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔
تمام سرکاری محکموں کو اس پالیسی پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات موصول ہو چکی ہیں۔ تاہم، جناب میمن نے واضح کیا کہ ضروری اور ہنگامی خدمات کے لیے مختص گاڑیاں اہم کاموں میں خلل سے بچنے کے لیے حسب ضرورت چلتی رہیں گی۔
