شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

شیری رحمان کی یو این اجلاس کوپ27 میں تاریخی معاہدے کا خیر مقدم معاہدے سے ترقی پذیر ممالک کو ماحویاتی تبدیلی کے باعث تباہی سے نمٹنے اور بحالی میں مدد ملے گی

اسلام آباد(پی پی آ ئی) مصر میں ماحولیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے اجلاس کوپ27 میں تاریخی معاہدہ طے پا گیا۔وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہو ئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے ترقی پذیر ممالک کو ماحویاتی تبدیلی کے باعث تباہی سے نمٹنے اور بحالی میں مدد ملے گی۔شیری رحمان نے کہا ترقی پذیر ممالک کے لیے فنڈ کے قیام پر شکرگزار ہیں، یہ کوپ27 کی جانب سے مثبت اور اہم سنگ میل ہے، فنڈ کا قیام سب کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرے گا، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔خیال رہے کہ کوپ27 میں پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ایک تاریخی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت ماحولیاتی نقصان سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو معاوضہ دیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت امیر اور ماحولیاتی تبدیلی میں بڑا کردار ادا کرنے والے ممالک کی جانب سے ایک فنڈ قائم کیا جائے گا۔ فنڈ سے ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کو نقصان کا ازالہ کرنے میں مدد مل سکے گی۔معاہدے کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثرہ ملکوں کے لیے تاریخی فتح قرار دیا جارہا ہے۔ پاکستان اور نائجیریا میں حالیہ سیلاب سے بہت نقصان ہوا ہے اور اس فنڈ سے ان کے نقصان کا ازالہ ہوسکتا ہے۔ماحولیاتی تنظیموں اور ترقی پذیر ممالک کی جانب سے30 سال سے اس معاہدہ کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔کوپ 27 سب سے زیادہ دیر تک چلنے والے اجلاسوں میں سے ایک بن گیا۔ اس اجلاس میں قریب 200 ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔کانفرنس میں گلوبل وارمنگ کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے گزشتہ وعدوں کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لیے ا?ئندہ برسوں کے دوران کاربن گیسوں کے اخراج میں تیزی سے اور نمایاں کمی کی جائے گی۔