ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

معروف شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار اور ادیب جمیل الدین عالی کی برسی منائی گئی

کراچی (پی پی آئی) اردو کے معروف شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار اور ادیب جمیل الدین عالی کی برسی بدھ کو منائی گئی ۔ وہ متعدد مشہور ملی نغموں کے خالق تھے۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 23 نومبر2015ء کو کراچی میں وفات پائی، تدفین کراچی میں آرمی کے بزرٹا لائنزقبرستان میں ہوئی۔پی پی آئی کے مطابق جمیل الدین عالی نے دوہے کی جو بازیافت کی اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔عالی صاحب کی کتب پر نظر دوڑائی جائے تو ان میں “لا حاصل(شاعری)،بس اِک گوشہبساط، خاکے،مضامین اور تاثرات،آئس لینڈ(سفرنامہ)،کارگاہِ وطن(کالموں کا مجموعہ)،بارگاہِ وطن(کالموں کا مجموعہ)،دوہے(شاعری)،حرف چند، کتابوں پر لکھے گئے مقدمے،انسان:شاعری (طویل نظمیہ)، وفا کر چلے،صدا کر چلے،دعا کر چلے،اے مرے دشت سخن،تماشا مرے آگے،دنیا مرے آگے” اور”جیوے جیوے پاکستان” شامل ہیں۔پی پی آئی کے مطابق جمیل الدین عالی نے متعدداعزازات بھی حاصل کیے جن میں ہلال امتیاز (2004)، تمغہ حسن کارکردگی (1991)،آدم جی ادبی انعام (1960)، داؤد ادبی ایوارڈ (1963)،یونائٹڈ بینک ادبی ایوارڈ (1965)،حبیب بینک ادبی ایوارڈ (1965)، کینیڈین اردو اکیڈمی ایوارڈ (1988) اورسنت کبیر ایوارڈ – اردو کانفرنس دہلی (1989) شامل ہیں۔