مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجیوں کے تشددکی وجہ سے شہروں اور قصبوں میں حالات سنگین
پائی جانیوالی ناامیدی نے نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر لی،ڈپریشن میں خطرناک اضافہ
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے باعث کشمیریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔تلاشی اور محاصرے کی نام نہا د کارروائیوں کے دوران سرینگر، بڈگام، اسلام آباد، شوپیاں، کولگام، پلوامہ، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پور، کشتواڑ، رام بن، راجوری اور پونچھ کے اضلاع میں گھر وں میں داخل ہو کر کشمیری نوجوانوں کو گرفتار یا قتل، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بنا اور املاک تباہ کر رہے ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جاری تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کی وجہ سے شہروں اور قصبوں میں حالات سنگین ہو گئے ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں لوگوں میں پائی جانیوالی ناامیدی نے شدید نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔دماغی صحت سے متعلق کارکنوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ڈپریشن، اضطراب اور دیگر نفسیاتی امراض میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔مقبوضہ وادی جس کی اکثریت مسلم آبادی پر مشتمل ہے اورجوبھارتی تسلط سے آزادی کیلئے اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے وسائل بہت کم ہیں۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے 56خاندانوں کے سروے کے بعد کہاتھا کہ تقریبا 18لاکھ کشمیری یا بالغ افراد کی مجموعی تعداد کا نصف کسی نہ کسی دماغی امراض میں مبتلا ہیں اور ہر دس میں سے نو افراد صدمے کا شکار ہیں۔
