پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جانوروں اور پودوں کی 10 فیصد سے زائد اقسام کی معدومی کا خطرہ مسلسل بڑھتا درجہ حرارت، بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی اور خشک سالی خطرناک ڈیڑھ لاکھ سے زائد اقسام کو خطرات ، 42 ہزار معدومیت کے خطرے سے دوچار

کراچی (پی پی آئی)ماحولیاتی آلودگی کے باعث جانوروں اور پودوں کی 10 فیصد سے زائد اقسام ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔گلوبل وارمنگ، زمین کا مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی اور خشک سالی جہاں انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہے وہیں اس سے جنگلی حیات بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ اگر گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج پر قابو نہ پایا گیا تو اس صدی کے آخر تک جانوروں اور پودوں کی 10 فیصد سے زائد اقسام ناپید ہو جائیں گی۔پی پی آئی کے مطابق جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماحولیاتی آلودگی سے جانور ہی نہیں پودے بھی اپنے قدرتی مسکن سے محروم ہو رہے ہیں۔ بدلتا درجہ حرارت نازک پودوں اور جانوروں کے لیے تباہ کن ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ دہائیوں میں پودوں اور جانوروں کی معدومیت میں تیزی آئے گی جس سے زمین کا ایکو سسٹم بری طرح متاثر ہو گا۔ایکو سسٹم کے تحت بہت سے چھوٹے جانور اور پرندے، پھول پتے اور پھل کھا کر گزارا کرتے ہیں۔ یہ پرندے اور چھوٹے جانور، بڑے جانوروں کا شکار بنتے ہیں۔ اگر چین سسٹم ٹوٹتا ہے یا اس اس کے کسی درجے میں پائے جانے والے جانداروں کی تعداد میں تیزی سے کم ہوتی ہے تو انہیں بطور خوراک استعمال کرنے والوں کی بقا بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔پودوں اور جانوروں کو لاحق معدومیت کے خطرے کو عموماً آئی یو سی این ریڈ لِسٹ میں زیرِ نگرانی رکھا جاتا ہے۔ اس میں سائنس دانوں نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد اقسام کو لاحق خطرات کا تجزیہ پیش کیا جس میں معلوم ہوا کہ 42 ہزار سے زائد اقسام معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں جس کی زیادہ تر ذمہ داری انسانی سرگرمیوں پر عائد ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 6 فی صد پودے اور جانور 2050 تک معدوم ہوجائیں گے جبکہ یہ شرح اس صدی کے آخر تک 13 فی صد تک پہنچ جائے گی۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق بد ترین حالات میں 2100 تک 27 فی صد پودے اور جانور معدوم ہوسکتے ہیں۔