پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

2022 معاشی طور پر پاکستان کے لیے بدترین سال قرار

حکومت کو اصلاحات کے ساتھ ریلیف اور بحالی میں توازن کا مشورہ
ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 49.30 تک گرا، آئی ایم ایف حل نہیں
کراچی (پی پی آئی)پاکستان بزنس فورم نے سال 2022 کو معاشی طور پر بدترین سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اصلاحات کے ساتھ ریلیف اور بحالی کی ضروریات کو پورا کرنے میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔پی پی آئی کے مطابق پاکستان بزنس فورم نے سال 2022 کو معاشی طور پر بدترین سال قرار دے دیا، اور کہا کہ معاشی پالیسیوں کا تسلسل ملک کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے۔فورم کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کی شرح نمو صرف 2 فیصد رہنے کی توقع ہے، پاکستان کو مالی سال 2023 میں 26 بلین ڈالر سے زائد کا غیر ملکی قرضہ واپس کرنا ہے۔فورم نے مشورہ دیاکہ حکومت کو اصلاحات کے ساتھ ریلیف اور بحالی کی ضروریات کو پورا کرنے میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔بزنس فورم کی جانب سے کہا گیا کہ سال 2022 میں روپیہ ایک ڈالر کے مقابلے میں 49.30 روپے تک گرا، پاکستان کو بڑی معاشی طاقتوں کی ضرورت آن پڑی ہے، بحیثیت اسٹریٹجک پارٹنر آئی ایم ایف کوئی پائیدار حل نہیں۔