کراچی بنگالی پاڑہ سے 2 زخمی ڈاکو گرفتار ،شاہ لطیف میں بھائی کے ہاتھوں بھائی زخمی

کراچی اورنگی ٹاؤن اور سی ٹی او کمپاؤنڈ میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے ، 3 ڈاکو گرفتار ، ایک فرار

کراچی گلشن اقبال اور بوٹ بیسن میں فائرنگ 2 ڈاکو ایک راہگیر زخمی

نائب وزیراعظم کا فعال خارجہ پالیسی ، اقتصادی سفارت کاری کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ

وفاقی وزیر سرمایہ کاری سے برطانیہ،چین فنڈ کے وفد کی ملاقات ، صنعتی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال

اوکاڑہ گجر چوک پر موٹر سائیکلوں میں تصادم ، میں 2 افراد جاں بحق ، 3 زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کو لاوارث چھوڑنے کے رحجان میں اضافہ

بعض سنگدل ننھے پھولوں کوپھینک جاتے ہیں, لاوارث بچوں کی صحیح تعداد ناممکن
کراچی (پی پی آئی)پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کو لاوارث چھوڑنے کے رجحان میں اضافہ ہوگیا۔بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لئے کام کرنیوالے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے مطابق پیدائش کے بعد لاوارث چھوڑنے اور کوڑے کے ڈھیر پر پھینکنے جانے والے نوزائیدہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔پی پی آئی کے مطابق نوزائیدہ بچوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر اسپتالوں میں چھوڑدیا جاتا ہے جبکہ بعض سنگدل ان ننھے پھولوں کوکوڑے کے ڈھیریا پھرویرانے میں پھینک جاتے ہیں جہاں کتے ان کو نوچ کھاتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق زندہ بچ جانے والے لاوارث گمنام بچوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کیونکہ ان بچوں کی پرورش کرنے والے ہر ادارے کے پاس انفرادی ریکارڈز تو موجود ہیں تاہم مجموعی اعدادوشمار اب تک جمع نہیں کئے گئے ہیں۔چائلڈپروٹیکشن اینڈویلفیئر بیورو لاہور کی نرسری میں اس وقت 34 نوزائیدہ بچے ہیں جن میں 23 لڑکیاں اور11 لڑکے ہیں۔ چائلڈپروٹیکشن بیورو کو یہ بچے مختلف اسپتالوں میں ملے ہیں جن کی یہاں پرورش کی جارہی ہے۔ ان بچوں کی مائیں انہیں جنم دینے کے بعد اسپتال میں ہی لاوارث چھوڑگئیں۔سماجی اور فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو کوڑے میں پھینکنے کے بجائے بچوں کے کسی ادارے کے سپرد کردیا جائے۔