شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ڈالر کی اسمگلنگ میں بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، سینیٹر محسن عزیز

اسلام آباد (پی پی آئی)پاکستان تحریک انصافکے سینیٹر محسن عزیز نے کہا ہے کہ ڈالر کی اسمگلنگ میں بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔پی پی آئی کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں اسٹیٹ بینک کے گورنر نے مہنگائی، شرح سود اور فارن ایکسچینج سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ہماری حکومت نے اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دی مگر انہوں نے اس کا استعمال نہیں کیا، شرح سود اور مہنگائی پاکستان میں تاریخی بلندی پر پہنچ چکا ہے، شرح سود میں مزید 2 فیصد اضافہ کرنے کے احکامات ملے ہوئے ہیں۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اجلاس میں وفاقی وزیر نہیں ہے، میرے سوالات کا جواب کون دے گا؟چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک آپ کے سوالات کا جواب دیں گے۔محسن عزیز کا کہنا ہے کہ میرے سوالات کا جواب وزیر خزانہ دے سکتا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک نہیں۔انہوں نے کہا کہ بینکوں سے قرض حکومت لیتی ہے، آج ملک میں 41 فیصد افراط زر ہے جو1971ء کے جنگ کے بعد بھی نہیں تھا۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ لگژری اشیاء پر ٹیکس 25 فیصد کرنے سے ریونیو میں کمی اور اسمگلنگ میں اضافہ ہو گا۔سینیٹر محسن عزیز کا کہنا ہے کہ ڈالر کی اسمگلنگ میں بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، ہر روز 4 سے 5 ملین ڈالر صرف ایک بارڈر سے اسمگل ہو رہا ہے۔