بھارتی فوجیوں کی زیادتی کا شکار متاثرہ خواتین کی سننے والا کوئی بھی نہیں
سری نگر (پی پی آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے خواتین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرہ خواتین کی سننے والا کوئی نہیں۔بھارتی حکومت نے خواتین و بچوں کے حقوق کے تحفظ کے ریاستی کمیشن کو 5اگست 2019کو دفعہ 370کی منسوخی کے بعد ختم کر دیا تھا اور اس کے بعد سے خواتین کے لیے ایسا کوئی فورم نہیں جہاں وہ اپنی شکایات درج کرا سکیں۔ صنفی مسائل پر کام کرنے والے ماہرین، کارکنان اور این جی اوز کا کہنا ہے کہ کمیشن ان پولیس اسٹیشنوں کا متبادل تھا جہاں خواتین اپنی شکایات درج کرانے سے ہچکچاتی ہیں۔ ان کا کہناہے کہ بھارت کے قومی کمیشن برائے خواتین کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ مسائل کے حل کے لئے کشمیری خواتین کا نئی دہلی پہنچنا بہت ہی مشکل کام ہے۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ آن لائن شکایات درج کرانے کی سہولت بھی موجود ہے لیکن ہرخاتون ایسا نہیں کرسکتی اور خواتین کے چند تھانے تمام مقدمات کے لئے کافی نہیں ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین کے کمیشن کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خواتین کو بھی جنہوں نے 5اگست 2019سے پہلے کمیشن میں کیس درج کرائے تھے، بے یارو مددگارچھوڑ دیا گیا ہے اور وہ اب جائیں توجائیں کہاں؟مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ویمن میٹرزکے سربراہ دانش ظہور نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ خواتین کے کمیشن کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ علاقے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
