نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بحرینی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا

پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی

ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک

سی ڈی اے نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کے لئے نیا اقداماتی منصوبہ پیش کیا

پی سی ایم ای اے کا بین الاقوامی ہینڈلوم قالین نمائش کے لئے فنڈنگ ​​میں تاخیر پر اظہار تشویش

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ کے حصے کے 50 ارب روپے اب تک نہیں ملے صوبہ مشکل صورت حال سے دوچار، سرکاری ملازمین جنوری کی تنخواہوں سے محروم

کوئٹہ (پی پی آئی)بلوچستان اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں صوبائی حصے کے 50 ارب روپے جاری کرنے کے لیے کئی درخواستوں کے باوجود سیلاب سے متاثرہ صوبے کے مالی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے وفاق کی جانب سے عدم تعاون کا رویہ اپنانے پر احتجاج کیا۔ بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے صوبائی حکومت سے کہا کہ اسلام آباد سے حتمی مذاکرات کریں اور وفاقی وزیر کے بجلی کی کمپنیوں کی صوبوں کو حوالگی سے متعلق بیان پر حیرت کا اظہار کیا۔صوبائی اسمبلی کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کو کیسکو کے بجائے ریکوڈک، گوادر پورٹ اور گیس کی کمپنی صوبے کے حوالے کرنی چاہیے۔بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر میر جان محمد خان جمالی کی زیرصدارت اجلاس کے دوران وزیرخزانہ زمرک خان پیرعلی زئی نے مالی بحران کا ذکر کرتے ہوئے وفاق کے رویے پر تنقید کی۔صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ وفاق نے درخواست کے باوجود بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ کے حصے کے 50 ارب روپے اب تک جاری نہیں کئے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ملنے والی بیرونی امداد سے بلوچستان کو ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ اراکین اسمبلی آگاہ ہیں کہ محکمہ خزانہ کے پاس محدود وسائل ہیں اور صوبائی حکومت کے چند اقدامات کے لیے فنڈز وفاقی حکومت سے ملتے ہیں۔زمرک خان پیرعلیزئی نے کہا کہ ’ہم بہت مشکل صورت حال سے دوچار ہیں اور ہمیں اپنے پی ایس ڈی پی مکمل کرنے کے لیے سخت صورت حال کا سامنا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کو جنوری کے مہینے کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 15 رکنی وفد اسلام آباد گیا تھا اور وہاں وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیربجلی خرم دستگیر سے صوبے کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا تھا۔صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ جب ہمارے وفد نے انہیں تجویز دی کہ بجلی کی کمپنی کے بجائے گیس کی تقسیم، گوادر پورٹ اور ریکوڈک صوبے کو دے دیں تو وزیردفاع یہ کہتے ہوئے اجلاس چھوڑ کر چلے گئے کہ انہیں وزیراعظم کے اجلاس میں شرکت کے لیے جانا ہے۔وفاقی وزیر کی عدم دلچسپی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکز نے بلوچستان سے گئے ہوئے وفد کو بالکل نظرانداز کیا۔زمرک خان پیرعلیزئی نے خدشے کا اظہار کیا کہ زیر التوا منصوبے نامکمل رہ جائیں گے۔