بدین میں پانی کی مصنوعی قلت کے باعث دھان کی زیر کاشت فصل شدید متاثر

غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں معمولی کمی ، اوپن مارکیٹ: ڈالر، یورو اور پاؤنڈ سستے ہوگئے

عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان

ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کردئیے

چیئرمین ایس ای سی پی کا دورہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

اختلاف رائے پر بے رحمانہ جبر کرنے والی ریاستوں میں پاکستان بھی شامل: ایمنٹسی انٹرنیشنل

اسلام آ باد(پی پی آئی) انسانی حقوق کی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ناانصافی، محرومی اور امتیازی سلوک کے خلاف احتجاج کے لیے لوگ خطے کے تمام ممالک میں وقتاً فوقتاً سڑکوں پر نکل آئے لیکن افغانستان، بنگلہ دیش، انڈیا، نیپال، مالدیپ، پاکستان اور سری لنکا سمیت بیشتر ممالک میں انھیں شدید کریک ڈاؤن اور حد سے زیادہ اور بعض اوقات جان لیوا طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔بی بی سی کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکام نے جبری گمشدگیوں کا شکار ہونے والے کارکنوں اور خاندان کے افراد کے پرامن احتجاج کو زبردستی ختم کروایا، آزادی صحافت پر کئی ممالک میں حملے ہوتے رہے۔ ’پاکستان میں میڈیا ورکرز بھی مزید دباؤ میں آئے کیونکہ صحافیوں اور دیگر افراد کو جعلی الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی علاقائی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا یامنی مشرا کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک صریح منافقت اور دوہرے معیارات کے حیرت انگیز مظاہرے میں انسانی حقوق کے قانون کو اپنی مرضی سے لاگو کرتے ہیں۔ وہ صرف اس وقت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہیں جب یہ ان کی عالمی اور علاقائی سیاست سے ہم آہنگ ہو لیکن اپنی دہلیز پر اسی طرح کی زیادتیوں پر صرف اس لیے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہاں ان کے اپنے مفادات داؤ پر ہیں۔ یہ بے ضمیری عالمی انسانی حقوق کے پورے تانے بانے کو کمزور کرتی ہے۔