پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ثاقب نثار نے از خود نوٹس کا بیدریغ استعمال کیا:وزیر قانون

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف میں بات کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوموٹو لینا شروع کیا اور بے دریغ استعمال کیا، دو ججز کے فیصلے سے اضطرابی کیفیت پیدا ہوئی ہے، یہ بھی کہا گیا سوموٹو میں ون مین شو نہیں ہونے چاہیئں، بار کونسل سمیت حامد خان نے بھی کہا کہ یہ قانون وقت کی ضرورت ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ ایک چیف جسٹس آکر 300،400سومٹو لیتے ہیں اور دوسرے دو تین لیتا ہے، افتخار چودھری کے بعد کسی چیف جسٹس نے سامان سے شیشی نکلنے یا گلی میں پانی کھڑا ہونے پر سوموٹو نہیں لیا، آرٹیکل 184/3میں اپیل کاحق نہ ہوناآئین کے بنیادی اصولوں کیخلاف ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دو سنیئرترین ججز کسی بینچ میں شامل نہیں، یہ اضطرابی کیفیت قانون دانوں میں بھی پائی جاتی ہے، گزشتہ روز قومی اسمبلی نے کہا کہ کوئی ایسا قانون نہ بنائیں جس کو چیلنج کیا جائے، بل کو غور کیلئے کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہا فوری نوعیت کے مقدمات کی فوری طور شنوائی نہیں ہوتی،سپریم کورٹ میں فوری نوعیت کے مقدمات کی چھ،چھ ماہ کیس نہیں لگتا،یہ محسوس کیا گیا کہ یہ درست وقت ہے پارلیمان اپنا کردار دا کریں، یہ آئین سے متصادم ہے نہ ہی اس میں آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 کا 2008 سے 2010 تک بے دریغ استعمال شروع ہوا، بار کونسلز کا کہنا تھا کہ 184/3 کے بے دریغ استعمال کوروکا جائے، سپریم کورٹ کے اندر سے بھی آوزیں آئیں،وقت تھا کہ پارلیمان اب اس پر قانون سازی کرے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا کہ ہم سب اس موجودہ صورت حال سے پریشان ہوئے، آئے دن از خود نوٹس ہوئے، اسے ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے،سوال اٹھ رہے ہیں کہ کل سو موٹو کے ذریعے اس بل کو ختم ہی کر دیا جائے۔ممبر کمیٹی رمیش کمار نے کہا کہ بہتر ہے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے مشاورت کی جائے، انہیں باور کرایا جائے یہ بل وقت کی اہم ضرورت ہے،بہتر ہے اعلیٰ عدلیہ کویہ فیصلہ خود کرنے دیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ قانون سازی پارلیمان کا صوابدید ہے، پارلیمان کو اپنا کام کرنے دیں باقی ادارے اپنا کام کریں، ایسا نہیں کہ لائن کراس کی جا رہی ہو۔محمود بشیر ورک کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے اجلاس میں کمیٹی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کی منظوری دے دی۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل کی منظوری بعض ترامیم کے ساتھ دی گئی، بل کے تحت چیف جسٹس کا از خود نوٹس کا اختیار ختم کرنے کی تجویز دی گئی۔